
خلیج اردو
نئی دہلی: اسپائس جیٹ کے چار ملازمین اس وقت شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہیں جب ایک سینئر بھارتی فوجی افسر نے سری نگر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اضافی سامان کے چارجز مانگنے پر ان پر بہیمانہ حملہ کر دیا۔ واقعہ 26 جولائی کو اسپائس جیٹ کی پرواز SG-386 (سری نگر تا دہلی) کے بورڈنگ گیٹ پر پیش آیا۔
ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق، "مسافر کے پاس 16 کلوگرام وزنی دو بیگ تھے، جو کہ مجاز حد 7 کلوگرام سے دو گنا زیادہ تھے۔ جب اسے اضافی چارجز ادا کرنے کو کہا گیا تو اس نے انکار کر دیا۔”
رپورٹس کے مطابق جب عملے نے قواعد وضوابط کے مطابق کاروائی کرنے کی کوشش کی تو افسر زبردستی ایرobridge میں داخل ہو گیا۔ سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی پر سی آئی ایس ایف اہلکار نے اسے واپس گیٹ پر پہنچایا، جہاں صورتحال مزید بگڑ گئی۔ مسافر نے عملے پر مکوں، لاتوں اور یہاں تک کہ لائن اسٹینڈ سے حملہ کر دیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ "ایک اسپائس جیٹ ملازم زمین پر بے ہوش ہو کر گر گیا لیکن مسافر نے اسے مارنا جاری رکھا۔ دوسرا ملازم جو مدد کیلئے جھکا تو اسے منہ اور ناک پر شدید ضربیں لگیں، جس سے خون بہنے لگا۔”
چاروں زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک ملازم کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر جبکہ دیگر کے جبڑے اور چہرے کی ہڈیوں میں چوٹیں تشخیص ہوئیں۔
ایئرلائن نے واقعے کی ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے پولیس کو فراہم کر دی ہے اور مقامی تھانے میں ایف آئی آر بھی درج کرا دی گئی ہے۔ اسپائس جیٹ نے مذکورہ مسافر کو نو فلائی لسٹ میں شامل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے اور وزارت شہری ہوا بازی سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم، وزارت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ملزم فوجی افسر کی شناخت بھی ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔







