عالمی خبریں

بھارتی انتخابات میں مبینہ فراڈ، برازیلین ہیئر ڈریسر کی تصویر 22 جعلی ووٹروں کے لیے استعمال

خلیج اردو
نئی دہلی: بھارت میں مبینہ الیکشن فراڈ کے ایک غیرمعمولی معاملے نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے، جب برازیل کی ہیئر ڈریسر لریسا نیری کی تصویر 22 مختلف ووٹرز کے ناموں کے ساتھ بھارتی ووٹر لسٹ میں استعمال کی گئی۔

لریسا نیری، جو برازیل کے شہر بیلو ہوریزونتے میں رہتی ہیں اور کبھی بھارت نہیں گئیں، اس وقت حیران رہ گئیں جب ان کا نام بھارتی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر الیکشن فراڈ کے الزام کے تحت گردش کرنے لگا۔ انھوں نے بتایا کہ پہلے پہل انھیں لگا یہ کوئی مذاق یا مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی ویڈیو ہے، مگر جب ان کے انسٹاگرام پر ہزاروں پیغامات اور ٹیگز آنے لگے تو حقیقت ان پر آشکار ہوئی۔

یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کانگریس پارٹی کے رہنما راہل گاندھی نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور الیکشن کمیشن پر ہریانہ کے انتخابات میں ووٹوں کی چوری کا الزام لگایا۔ انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سلائیڈ پر لریسا نیری کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا: “یہ خاتون کون ہیں؟ ان کی عمر کیا ہے؟ انھوں نے 22 مرتبہ ووٹ ڈالا۔”

راہل گاندھی کے مطابق، الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹ میں دو کروڑ ووٹرز میں سے 25 لاکھ انٹریاں یا تو ڈپلیکیٹ ہیں یا غلط پتوں کے ساتھ درج ہیں۔ بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

لریسا نے بی بی سی کو بتایا کہ دکھائی گئی تصویر ان ہی کی ہے، جو 2017 میں برازیل میں ان کے گھر کے باہر لی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ وہ کوئی ماڈل نہیں بلکہ ایک ہیئر ڈریسر ہیں، اور اب اس معاملے کے باعث انھیں سوشل میڈیا پر ہراسانی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کی تصویر کھینچنے والے برازیلین فوٹوگرافر میتھیس فریرو نے بھی تصدیق کی کہ یہ فوٹو ان کی لی ہوئی ہے، جو انھوں نے انسپلیش ویب سائٹ پر شیئر کی تھی۔ تاہم اب انھوں نے یہ تصاویر خوف کے باعث حذف کر دی ہیں، کیونکہ ان کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا۔

لریسا اور میتھیس دونوں بھارت کبھی نہیں گئے، مگر ان کے بقول، “دنیا کے دوسرے کنارے ہونے والے ایک انتخابی تنازعے نے ہماری زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button