
خلیج اردو
واشنگٹن، 8 جولائی 2025 — امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو ممکنہ ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی مشیران کو یقین ہے کہ مخصوص حالات میں امریکہ، اسرائیلی حملوں کی حمایت کرے گا۔
یہ انکشاف ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس کے مطابق حالیہ دنوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ملاقات کے ایجنڈے میں بھی ایران کا جوہری پروگرام شامل تھا۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران کے ممکنہ خطرات، اس کی خطے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں، اور جوہری صلاحیت پر تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایران کے حساس تنصیبات پر حملے کے لیے ممکنہ منظرنامے تشکیل دے چکا ہے۔
نیتن یاہو کی حکومت پہلے بھی ایران پر الزام لگا چکی ہے کہ وہ خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران ان الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتا رہا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی دفاعی حکام کے درمیان رابطوں میں بھی تیزی آئی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی تو آئندہ چند ماہ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔






