عالمی خبریں

اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ شہر کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عندیہ، فضائی حملوں میں 17 فلسطینی جاں بحق

خلیج اردو
غزہ: اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے اسرائیل کی شرائط تسلیم نہ کیں تو غزہ کا سب سے بڑا شہر مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جلد ہی جہنم کے دروازے حماس کے قاتلوں اور مجرموں پر کھل جائیں گے جب تک وہ اسرائیل کی جنگ بندی کی شرائط — یرغمالیوں کی رہائی اور مکمل غیر مسلح ہونے — کو تسلیم نہیں کرتے۔”

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو بڑے آپریشن کی تیاری کا حکم دیا ہے۔ اسرائیلی زمینی فوج پہلے ہی شہر کے گرد و نواح میں موجود ہے اور چند دنوں میں وسیع پیمانے پر کارروائی شروع ہونے کا امکان ہے۔

غزہ کے الشفا اسپتال کے مطابق جمعے کو اسرائیلی فضائی کارروائی میں کم از کم 17 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ ایک فضائی حملے نے شیخ ردوان کے علاقے میں ایک اسکول کو نشانہ بنایا جہاں درجنوں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس حملے میں سات افراد مارے گئے۔

عالمی اداروں کے مطابق غزہ شہر میں قحط اور غذائی قلت کی سنگین صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اب تک جنگ میں 62,192 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں نصف خواتین اور بچے شامل ہیں۔ مزید 271 افراد، جن میں 112 بچے بھی ہیں، بھوک اور غذائی قلت سے ہلاک ہوئے۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ عرب ثالثوں کی پیشکش کردہ جنگ بندی کی تجویز قبول کر چکی ہے جس میں قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے مراحل شامل ہیں، تاہم اسرائیل نے اب تک اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ "حماس کو شکست دینا اور یرغمالیوں کی رہائی ایک ساتھ مشن ہیں۔”

ادھر امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ کے شہریوں کو بار بار نقل مکانی پر مجبور کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہے کیونکہ اب علاقے میں کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button