
خلیج اردو
لاس اینجلس میں کشیدگی کم نہ ہو سکی، ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں شدت آگئی ہے جبکہ مختلف علاقوں میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ نقاب پوش مظاہرین نے سڑکیں بلاک کرنے کے لیے کوڑا دانوں کو نذر آتش کیا اور کئی گاڑیوں و املاک کو آگ لگا دی۔
ادھر کیلی فورنیا کی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جاری تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ کیلی فورنیا کے مختلف شہروں میں امیگریشن اور دیگر وفاقی ایجنسیاں تارکین وطن کے خلاف چھاپے مار رہی ہیں، جس پر عوامی ردعمل مزید بھڑک اٹھا ہے۔
کیلی فورنیا کے اٹارنی جنرل نے صدر ٹرمپ کے احکامات کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لاس اینجلس میں نیشنل گارڈز کی تعیناتی کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی افواج نے اعلان کیا ہے کہ 700 میرینز کو فوری طور پر لاس اینجلس میں تعینات کیا جائے گا تاکہ سرکاری املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے نیشنل گارڈز کی تعیناتی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو کیلی فورنیا میں مزید دستے تعینات کیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے مظاہروں کو ممکنہ بغاوت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ خانہ جنگی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی اور یہاں تک کہ گرفتاری کی تجویز بھی دے ڈالی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گورنر نیوسم کو صرف پبلسٹی پسند ہے، اور ان کی گرفتاری ایک "اچھی بات” ہو گی۔






