
خلیج اردو
کیف/ماسکو، 31 مئی 2025
یوکرین نے روس کے اندر واقع متعدد فضائی اڈوں پر ڈرون حملے کر کے 40 سے زائد بمبار طیاروں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرین کی خفیہ ایجنسی "ایس بی یو” کے مطابق، یہ کارروائی ڈیڑھ سال کی خفیہ منصوبہ بندی کے بعد "آپریشن سپائڈر ویب” کے تحت انجام دی گئی، جس کی نگرانی خود صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کی۔
حملے میں 117 FPV ڈرونز استعمال کیے گئے، جنہیں لکڑی کے آٹومیٹک چھت والے موبائل کیبنز میں چھپا کر ٹرکوں پر روسی فضائی اڈوں کے قریب پہنچایا گیا۔ مناسب وقت پر ان کیبنز کی چھتیں کھولی گئیں اور ڈرونز نے ٹرکوں سے پرواز کر کے طیاروں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مہم کے لیے ڈرونز اور لانچنگ یونٹس روسی حدود میں اسمگل کیے گئے تھے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطابق، یہ حملہ روسی سکیورٹی ادارے FSB کے دفاتر کے قریب سے آپریٹ کیا گیا، اور اس دوران کوئی اہلکار گرفتار نہیں ہوا۔ زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ جن طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ان میں روس کے اسٹریٹیجک نیوکلیئر بمبار طیارے Tu-95، Tu-22M3 اور A-50 وارننگ سسٹم والے طیارے شامل تھے۔ ان کے بقول، اس کارروائی کے دوران 34 فیصد کروز میزائل بردار طیارے تباہ ہوئے اور روسی فضائیہ کو 2 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔
روسی وزارت دفاع نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انھیں دہشت گردی قرار دیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق، ارکتسک اور مورمانسک کے علاقوں میں متعدد طیارے آگ کی لپیٹ میں آئے تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دیگر علاقوں جیسے ایوانوو، ریازان اور امور میں حملے ناکام بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔
یوکرین کے زمینی افواج کے سربراہ میجر جنرل میخائیلو دراپاتی نے روسی میزائل حملے میں اپنے 12 فوجیوں کی ہلاکت اور 60 سے زائد کے زخمی ہونے پر استعفیٰ دے دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انھوں نے ذاتی احساسِ ذمہ داری کے تحت کیا۔
دوسری جانب یوکرین نے روس کے 472 ڈرونز اور 7 میزائلوں کے حملے کو اب تک کا سب سے بڑا روسی حملہ قرار دیا ہے، جن میں سے 385 فضائی اہداف کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
یہ تمام حملے ایک ایسے وقت پر کیے گئے ہیں جب ترکی کے شہر استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا دور متوقع تھا۔ تاہم حالیہ کارروائیوں کے بعد جنگ بندی کی امیدیں کمزور دکھائی دے رہی ہیں۔






