
خلیج اردو
واشنگٹن: 22 مئی، 2025
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات اس وقت کشیدہ صورت اختیار کر گئی جب ٹرمپ نے جنوبی افریقہ میں مبینہ سفید فام نسل کشی پر تصاویر اور ویڈیوز دکھاتے ہوئے سوالات اٹھائے۔
ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صدر رامافوسا کو متعدد ویڈیوز اور تصاویر دکھائیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں پر حملوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس پر صدر رامافوسا نے تصاویر کو جنوبی افریقہ کی "درست عکاسی” ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایک آئینی ریاست ہے جہاں تمام اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جاتا ہے۔
رامافوسا کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ میں تشدد صرف سفید فام افراد تک محدود نہیں بلکہ جرائم کا نشانہ ہر طبقہ بنتا ہے، اور جرائم میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت سیاہ فام ہوتی ہے۔
بات چیت کے دوران صدر رامافوسا نے طنزیہ انداز میں کہا، "میرے پاس آپ کو دینے کے لیے طیارہ نہیں ہے”، جس پر صدر ٹرمپ نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "آپ یہ پیشکش کریں، میں ضرور قبول کروں گا۔”
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ پہلے ہی یوکرینی صدر سے ایک تند و تیز ملاقات کے بعد تنقید کی زد میں ہیں۔ قطر سے ملنے والے تحفہ طیارے کے تناظر میں رامافوسا کا طنز سفارتی حلقوں میں موضوعِ گفتگو بن گیا ہے۔






