خلیج اردو
واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی سیز فائر کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جنگ بندی کے لیے روایتی سفارتکاری کے بجائے تجارت کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی سینیٹر جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے اس سلسلے میں تاریخی کردار ادا کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دی، جس سے لاکھوں جانیں بچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کوششیں نہ ہوتیں تو صورتحال نیوکلیئر تصادم کی طرف بڑھ سکتی تھی۔
سابق صدر نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کو مضبوط اور ذہین قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملک نیوکلیئر میزائلوں کی بجائے تجارت اور معیشت پر توجہ دیں۔
ٹرمپ نے مذاقیہ انداز میں مارکو روبیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کو ڈنر پر لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ "کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ دونوں وزرائے اعظم کسی خوبصورت جگہ پر ملاقات کریں، ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں اور اپنے مسائل کو حل کریں؟”
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دو ممالک کے رہنماؤں کے درمیان براہ راست اور غیر رسمی ملاقاتیں کشیدگی کم کرنے اور اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔






