
خلیج اردو
لندن / ویلنگٹن / کراکس / کینبرا، 23 جون 2025ء
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملے کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور متعدد عالمی رہنماؤں نے فوری سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ "ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امریکہ نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے قدم اٹھایا۔” انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آ کر اس بحران کا سفارتی حل تلاش کرے۔
آسٹریلیا کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال غیر معمولی طور پر غیر مستحکم ہے، اور عالمی برادری کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ نے خطے میں جاری فوجی کارروائی کو "انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکی حملوں سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف سفارتکاری ہی خطے میں پائیدار امن لا سکتی ہے۔
ادھر وینزویلا کے وزیر خارجہ نے ایران پر امریکی حملے کو "بین الاقوامی قانون کی صریح توہین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی ایما پر کیا گیا اور یہ عمل مشرق وسطیٰ میں خطرناک حد تک کشیدگی کو بڑھا دے گا۔
عالمی برادری نے متفقہ طور پر خطے میں قیامِ امن کے لیے سیاسی مکالمے اور سفارت کاری کو واحد راستہ قرار دیا ہے، اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ جنگ کی شدت میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری کردار ادا کرے۔






