Uncategorized

اسلام آباد: ترلائی مسجد خودکش دھماکہ، 24 شہید، 100 سے زائد زخمی

خلیج اردو
اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 24 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے وقت مسجد میں بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خودکش حملہ آور کو مسجد کے دروازے پر روکا گیا، جس پر اس نے سیکیورٹی گارڈ کو گولی مار کر اندر داخل ہونے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور شہادتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا۔

صدرِ مملکت نے کہا، "قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے”۔

وزیرِ اعظم نے کہا، "ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہرگز کسی کو اجازت نہیں دیں گے”۔

دھماکے کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی، جس میں وزیرِ اعظم نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور وزیرِ صحت کو خود علاج معالجے کی نگرانی کرنے کا حکم بھی دیا۔

سیکیورٹی اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے بلکہ مذہبی مقامات کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی منظم سازش کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button