ٹپس / سٹوریمتحدہ عرب امارات

کیا یو اے ای سے باہر پھنسے ہونے کی وجہ سے آپ کی کمپنی یا آجر آپ کو نوکری سے نکال سکتا ہے؟

کورونا کے باعث بیرون ملک پھنسے ملازم کو نوکری سے نکالنا ایک جائز عمل نہیں ہے۔ ماہر قانون

 

خلیج اردو آن لائن: اگر آپ کورونا کی وجہ سے لگائی گئی سفری پابندیوں کے باعث یو اے ای سے باہر پھنسے ہوئے ہیں تو کیا آپ کو نوکری نکالا جا سکتا ہے؟

نجی خبر رساں ادارے گلف نیوز کے ایک قاری نے گلف نیوز سے ایک ایسا ہی سوال پوچھا تھا جس کا جواب حاصل کرنے کے لیے خبررساں ادارے کی جانب سے السیدی اینڈ کمپنی میں سینئر قانونی مشیر اور ثالث ریدا ہیگازی سے رابطہ کیا تو انکا جواب درج ذیل تھا:

ہیگازی کا کہنا تھا کہ اگر ایک ملازم بارڈر بند ہونے کی وجہ سے بیرون ملک پھنسا ہوا ہے تو اسے نوکری سے نکالنے کے لیے یہ  ایک جائز وجہ نہیں ہے۔

یو اے ای کے لیبر لاء کے آرٹیکل 95 کے مطابق آجر یا کمپنی ملازم کو چھٹی کے دوران نوکری سے نہیں نکال سکتی ہے۔ ہیگازی کا مزید کہنا تھا کہ ” تاہم اگر ملازم کی چھٹی ختم ہوگئی ہے اور وہ جائز وجوہات  نہ ہونے کے باوجود کام پر واپس نہیں آتا اور ایک سال میں 20 دن کے لیے کام سے غیر حاضر رہتا ہے یا ایک ہفتے سے زیادہ دنوں کے لیے مسلسل غیر حاضر رہتا ہے تو آرٹیکل 120 کے تحت کمپنی یا آجر کے پاس ملازم کو نوکری سے نکالنے کا اختیار حاصل ہے”۔

اگرکورونا کے باعث بارڈر بند ہونے یا فضائی سفر پر پابندی کے باعث ملازم نوکری پر واپس نہیں آ پاتا اور اس کی چھٹی ختم ہو جاتی ہے تو کیا ملازم کی جانب سے نوکری پر واپس نہ آںے کی یہ ایک جائز وجہ تصور کی جائے گی؟

ماہر قانون ہیگازی کے مطابق ” یہ ایک جائز وجہ ہے اور ایسی صورتحال میں کمپنی یا آجر کے پاس ملازم کو نوکری سے نکالنے کی کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ اس صوتحال میں آرٹیکل 89 کے مطابق ملازم کی چھٹی ختم ہونے کے بعد کے دن ملازم اپنی تنخواہ سے محروم ہوجائے گا”۔

آرٹیکل 89 کے مطابق ہر وہ ملازم جو اپنی چھٹی ختم ہونے کے بعد کام پر واپس نہیں آتا، تو وہ چھٹی ختم ہونے کے بعد کے دن سے اپنی تنخواہ سے محروم ہو جائے گا۔

دوسری طرف یو اے ای لیبر لاء کا آرٹیکل 132 درج ذیل حالات میں آجر کو فائدہ دیتا ہے:

ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے مسلسل نوکری کرنے پر ملازم نوکری سے فارغ کیا جانے پر یا نوکری ختم ہونے پر گریجوئٹی کا حقدار قرار پاتا ہے۔ لیکن تنخواہ کے بغیر کام سے غیر حاٖضر رہنے کا دورانیہ مدت ملازمت میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

ہیگازی کا مزید کہنا تھا کہ اگر ملازم پہلی نوکری سے غیر حاضری کےدوران کوئی دوسری ملازمت اختیار کر لیتا ہے تو وہ پہلی نوکری کے اس دورانیہ کی تنخواہ حاصل کرنے کا حقدار نہیں ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ” ایسا اس لیے ہے کیونکہ ملازم نے جس کام کے لیے اسے رکھا گیا تھا اس نے وہ سرانجام نہیں دیا یا خود کو اس کے کام کے لیے تیار یا وقف نہیں کیا۔ اس عمل کی وجہ سے آجر ملازم کو رضاکارانہ طور پر نوکری سے فارغ سمجھے گا، کیونکہ ملازم اب آجر کے کنٹرول یہ زیر نگرانی نہیں ہے”۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button