خلیج اردو
08 جنوری 2021
اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ہزارہ برادری مچھ میں قتل ہونے والے اپنے 11 افراد کی تدفین کر دیں تو وہ آج ہی کوئٹہ جائیں گے، مگر کسی س’بلیک میلنگ’ میں نہیں آئیں گے۔
اسلام آباد میں سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مچھ واقعے کے بعد انھوں نے فوراً وزیرِ داخلہ کو اور پھر دو وفاقی وزرا کو یہ بتانے کے لیے لواحقین کے پاس کوئٹہ بھیجا کہ حکومت پوری طرح ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا ‘میں نے انھیں یقین دلایا کہ ہم لواحقین کا پوری طرح ان کا خیال رکھیں گے کیونکہ ان کے کمانے والے ہلاک ہوئے ہیں اور انھیں معاوضہ دیے بلیک میل ہو کر کبھی کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ ا
وزیر اعظم بولے کہ کل تک حکومت لواحقین کے سارے مطالبات مان چکی ہے، اب انکا مطالبہ ہے کہ وزیرِ اعظم آئیں تو دفنائیں گے ۔ اس طرح ہوا تو کل کو ہر کوئی ملک کے وزیرِ اعظم کو بلیک میل کرے گا جس میں سب سے پہلے ملک کی اپوزیشن جماعتیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی آپ انھیں دفنائیں گے تو میں کوئٹہ آؤں گا اور لواحقین سے ملوں گا۔ آج اس پلیٹ فارم سے دوبارہ کہہ رہا ہوں کہ اگر آپ آج میتیں دفنائیں گے تو میں آج کوئٹہ جاؤں گا لیکن یہ مطالبہ ناقابلِ فہم ہے کہ وزیرِ اعظم آئے گا تو میتیں دفنائیں گے۔
وزیر اعظم نے ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ کئی سانحات کے بعد ان کے پاس گئے بھی ہیں اور انھوں نے ان کا خوف بھی دیکھا ہوا ہے انہوں نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں پر شاید سب سے زیادہ ظلم ہوا ہے، انکو ٹارگٹ کیا گیا، اور خاص طور پر 11 ستمبر کے بعد ان پر جس طرح ظلم کیا گیا، انھیں قتل کیا گیا، کسی اور کمیونٹی پر اس طرح کا ظلم نہیں ہوا۔
وزیر اعظم نے اس واقعے کو انڈیا کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سازش کے تحت ملک میں اہلِسنت اور اہلِ تشیع علماء کو قتل کر کے ملک میں انتشار پھیلانے کا منصوبہ تھا، میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے چار بڑے واقعات روکے مگر اس کے باوجود ایک بڑے سنی عالم کا کراچی میں قتل کیا گیا۔ حکومت نے بڑی مشکل سے یہ فرقہ وارانہ تفریق کی آگ بجھائی۔






