
خلیج اردو
تحریر: محمد عبدالسلام
روزانہ ہم سنتے ہیں کہ فلاں ملک نے ایک نیا سیارہ خلا میں چھوڑا، یا کسی ملک نے جدید ترین خلائی مشن کامیابی سے مکمل کیا۔ تاہم، زیادہ تر لوگوں کو یہ علم نہیں ہوتا کہ یہ سیارے خلا میں کیسے بھیجے جاتے ہیں، زمین کے گرد کیسے گردش کرتے ہیں، ان کی رفتار کیا ہوتی ہے، اور کن عوامل کے تحت یہ اپنے مدار میں مستحکم رہتے ہیں۔
خلائی تحقیق کا آغاز سرد جنگ کے زمانے میں ہوا، جب سپر پاورز نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے خلا میں قدم رکھنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ 4 اکتوبر 1957 کو سوویت یونین نے "سپٹنک 1” کو خلا میں بھیج کر اس دوڑ کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان خلا میں برتری حاصل کرنے کے لیے ایک طویل مقابلہ شروع ہوگیا، جس میں چاند پر پہنچنے سے لے کر خلائی اسٹیشن بنانے تک کے سنگ میل شامل تھے۔ بعد ازاں، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور جاپان بھی اس دوڑ میں شامل ہوگئے، اور پھر چین نے بھی اپنی خلائی ٹیکنالوجی کو تیزی سے ترقی دے کر ایک بڑی قوت کے طور پر خود کو منوایا۔ آج خلا میں سبقت حاصل کرنے کی اس دوڑ میں سب سے نمایاں کھلاڑی امریکہ اور چین ہیں، جو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں اور جدید ترین سیٹلائٹ، چاند مشنز اور خلائی اسٹیشنز کی تخلیق میں مصروف ہیں۔
مصنوعی سیارے خلا میں کیسے گردش کرتے ہیں؟
کسی بھی مصنوعی سیارے کو زمین کے گرد مستحکم مدار میں رہنے کے لیے ایک خاص رفتار درکار ہوتی ہے، جسے مداری رفتار کہا جاتا ہے۔ یہ رفتار درحقیقت زمین کی کشش ثقل کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر سیارے کی رفتار بہت زیادہ ہو جائے تو وہ زمین کے مدار سے نکل کر خلا میں چلا جائے گا، اور اگر رفتار بہت کم ہو تو وہ زمین پر واپس گر سکتا ہے۔
یہی اصول قدرتی سیاروں اور چاند پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، چاند زمین کے گرد اسی اصول کے تحت گردش کر رہا ہے۔ خلا میں بھیجے گئے مصنوعی سیارے بھی اسی سائنسی فارمولے کے مطابق کام کرتے ہیں، جہاں ان کی مداری رفتار اس بات کا تعین کرتی ہے کہ وہ زمین سے کتنے فاصلے پر رہیں گے اور کس رفتار سے حرکت کریں گے۔
مداروں کی اقسام اور ان میں گردش کرنے والے سیارے
مصنوعی سیارے عام طور پر تین بنیادی مداروں میں گردش کرتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کا مخصوص مقصد اور خصوصیات ہوتی ہیں۔
1. نچلا زمینی مدار (کم بلندی والا مدار)
یہ مدار زمین کی سطح سے 200 سے 2000 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہوتا ہے۔ اس میں گردش کرنے والے سیارے بہت زیادہ رفتار کے ساتھ حرکت کرتے ہیں، جو تقریباً 7.8 کلومیٹر فی سیکنڈ (یعنی 28000 کلومیٹر فی گھنٹہ) ہوتی ہے۔
اس مدار میں موجود سیارے زمین کے بہت قریب ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی تصاویر اور ڈیٹا انتہائی واضح اور تفصیلی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مدار مختلف سائنسی اور تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے:
🔺زمین کی نگرانی: موسمیاتی پیشگوئی، جنگلات کی نگرانی، زراعت اور ماحولیات کا تجزیہ
🔺 بین الاقوامی خلائی اسٹیشن: خلا میں تحقیق کے لیے مستقل طور پر موجود انسانی مشن
🔺 خلائی مشاہدہ: طاقتور دوربینیں جیسے کہ "ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ”
یہاں گردش کرنے والے چند مشہور سیارے درج ذیل ہیں:
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن
موسمیاتی تحقیق کے سیارے
مختلف ممالک کے جاسوس اور سیکیورٹی سیارے
2. درمیانی زمینی مدار (متوسط بلندی والا مدار)
یہ مدار زمین سے 2000 سے 35000 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہوتا ہے۔ جیسے جیسے زمین سے دوری بڑھتی ہے، کشش ثقل کا اثر کم ہوتا جاتا ہے اور مداری رفتار بھی نسبتاً کم ہو جاتی ہے، جو 3 سے 6 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریباً 11000 سے 20000 کلومیٹر فی گھنٹہ) ہوتی ہے۔
اس مدار کے اہم استعمالات درج ذیل ہیں:
🔺 نیویگیشن اور راستہ معلوم کرنے والے سیارے: جیسے کہ
گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس)
روس کا نیویگیشن نظام (گلوناس)
چین کا نیویگیشن سسٹم (بی ڈاؤ)
یورپی یونین کا نیویگیشن نظام (گیلیلیو)
🔺 سائنسی مشاہدات: زمین کے ماحول سے باہر تحقیق اور خلائی اشعاع کی نگرانی
3. ارضی مستقر مدار (مستقل زمین کے مدار میں رہنے والے سیارے)
یہ مدار زمین سے تقریباً 35700 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہوتا ہے۔ اس میں موجود سیارے زمین کے ساتھ ساتھ اتنی ہی رفتار سے گردش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ زمین کے ایک مخصوص مقام پر رہتے ہیں۔
اس مدار کے بنیادی استعمالات درج ذیل ہیں:
🔺 ٹیلی ویژن نشریات: تمام ٹی وی چینلز اور براہ راست نشریات کے سیارے
🔺 مواصلاتی نظام: موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ سیارے
🔺 موسمی حالات کی نگرانی: طوفانوں، بارشوں اور موسمی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے سیارے
🔺 فوجی اور سیکیورٹی مقاصد: جنگی مقاصد اور انٹیلیجنس آپریشنز میں استعمال
چونکہ یہ سیارے زمین سے بہت دور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں محفوظ اور دیرپا مدار میں رکھا جاتا ہے، جہاں وہ دہائیوں تک کام کر سکتے ہیں۔
مداری رفتار معلوم کرنے کا سائنسی اصول
ماہرین نے مداری رفتار معلوم کرنے کے لیے ایک سائنسی فارمولا وضع کیا ہے، جو درج ذیل ہے:
V=G×MrV = \sqrt{\frac{G \times M}{r}}
جہاں:
V = مداری رفتار (کلومیٹر فی سیکنڈ)
G = کششِ ثقل کا عالمی مستقل (6.674 × 10⁻¹¹ نیوٹن میٹر² فی کلوگرام²)
M = زمین کا وزن (5.972 × 10²⁴ کلوگرام)
r = زمین کے مرکز سے سیارے تک کا فاصلہ (زمین کا رداس + سیارے کی بلندی)
یہی وہ اصول ہے جو سائنس دان ہر مصنوعی سیارے کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ زمین کے مدار میں متوازن طور پر گردش کرتا رہے۔
حاصل بحث
خلائی تحقیق کا سفر نہ صرف ایک سائنسی معجزہ ہے بلکہ اس نے ہماری روزمرہ زندگی میں بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ نیویگیشن، انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، موسمیاتی پیشگوئی، اور فوجی دفاعی نظام سب کے سب مصنوعی سیاروں پر منحصر ہیں۔
آج دنیا کے کئی ممالک خلا میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے مشنز لانچ کر رہے ہیں۔ مستقبل میں یہ تحقیق چاند، مریخ اور دیگر سیاروں کی تسخیر تک پہنچنے والی ہے، جہاں مصنوعی سیارے نہ صرف زمین کے گرد بلکہ دوسرے سیاروں کے مدار میں بھی گردش کریں گے۔







