
خلیج اردو
جنیوا: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر مذاکرات کی امید دوبارہ روشن ہو گئی ہے۔ یورپی خبر ایجنسی کے مطابق، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ جنیوا میں اہم ملاقات شیڈول کر لی ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے بھی اس ملاقات پر اتفاق ظاہر کیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مذاکرات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید عسکری تصادم جاری ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ایران کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس کل طلب کر لیا گیا ہے، جسے پاکستان، چین اور روس کی حمایت حاصل ہے۔ اجلاس میں حالیہ جارحیت، خطے میں امن و سلامتی، اور ایران کے مؤقف کو عالمی سطح پر زیر بحث لایا جائے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے اس موقع پر واضح کیا ہے کہ
"ہم جوہری ہتھیاروں پر یقین نہیں رکھتے، لیکن اگر امریکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوا تو ہمارے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔”
ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی اور یورپی ممالک کی دلچسپی کو خطے میں ممکنہ امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، حالات کی نزاکت کے پیش نظر یہ مذاکرات نہایت حساس اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔






