
خلیج اردو
الکوت: عراق کے مشرقی شہر الکوت میں واقع ایک ہائپر مارکیٹ میں بدھ کی رات لگنے والی شدید آگ نے کم از کم 60 افراد کی جان لے لی جبکہ 11 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ شہر کے محکمہ صحت اور پولیس حکام نے جمعرات کو اس المناک واقعے کی تصدیق کی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں پانچ منزلہ عمارت کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ فائر بریگیڈ کے اہلکار آگ پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق ممکن نہ ہو سکی۔
شہری محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا، "ہم نے 59 متاثرہ افراد کی شناخت کر لی ہے، تاہم ایک لاش بری طرح جلنے کی وجہ سے شناخت نہیں ہو سکی۔” علی المیاحی نامی سرکاری افسر کے مطابق مزید لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
آگ بدھ کی رات پہلی منزل سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ہائپر مال کو لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ایک عینی شاہد کے مطابق واقعہ ایک ایئر کنڈیشنر کے دھماکے کے بعد پیش آیا۔
رات گئے تک ایمبولینسیں زخمیوں کو اسپتال منتقل کرتی رہیں، اور الکوت کے ایک اسپتال میں مریضوں کی بھرمار ہو گئی۔ اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ یہ شاپنگ مال صرف پانچ دن پہلے ہی کھولا گیا تھا، اور اسپتال میں جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔
اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں اب بھی ملبے کی چھان بین کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں اسپتال کے باہر رشتہ داروں کو غم سے نڈھال دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک شخص زمین پر بیٹھ کر سینہ پیٹتے ہوئے کہہ رہا تھا: "اے میرے والد، اے میرے دل!”
ڈاکٹر ناصر القریشی، جن کی عمر پچاس سال ہے، نے بتایا کہ انہوں نے اس آگ میں اپنے پانچ اہلِ خانہ کو کھو دیا۔ ان کا کہنا تھا، "ہم صرف کھانے پینے اور گھر کی لوڈ شیڈنگ سے بچنے کے لیے مال آئے تھے۔ ایئر کنڈیشنر پھٹا اور پھر آگ بھڑک اٹھی، ہم بچ نہیں سکے۔”
واقعے پر تین دن کے سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے، اور مقامی حکومت نے مال کے مالک اور عمارت بنانے والے کنٹریکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 48 گھنٹوں میں متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا، "یہ المیہ ایک بڑا جھٹکا ہے اور اس سے ہمیں تمام حفاظتی اقدامات پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی ہوگی۔”
عراق میں تعمیرات کے دوران حفاظتی ضوابط اکثر نظر انداز کیے جاتے ہیں، اور کئی دہائیوں کے تنازعات کے باعث بنیادی ڈھانچہ بھی خستہ حال ہو چکا ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر آگ لگنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔
ستمبر 2023 میں عراق کے ایک شادی ہال میں آگ بھڑکنے سے 100 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ جولائی 2021 میں ایک اسپتال کی کووِڈ یونٹ میں لگنے والی آگ میں 60 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔
گورنر محمد المیاحی کے مطابق، "شاپنگ سینٹر میں پیش آنے والی المناک آگ میں شہداء اور زخمیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 50 تک پہنچ چکی ہے۔





