پاکستانی خبریں

بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل پر سینیٹ میں شدید ردعمل، ارکان نے قاتلوں کی سرعام پھانسی، سخت قانون سازی اور فوری عدالتی فیصلے کا مطالبہ

خلیج اردو
اسلام آباد:بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل پر سینیٹ میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ حکومت و اپوزیشن نے واقعے کو ریاستی ناکامی اور اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیا۔ جرگہ کلچر، عدالتی سستی اور پولیس نااہلی پر کڑی تنقید ہوئی۔ ارکان نے قاتلوں کی سرعام پھانسی، سخت قانون سازی اور فوری عدالتی فیصلے کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون اور مرد کے سفاکانہ قتل پر سینیٹ میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایوان میں حکومت و اپوزیشن اراکین نے واقعے کو قومی غیرت کا جنازہ قرار دیتے ہوئے ریاستی ناکامی، فرسودہ جرگہ نظام، کمزور عدالتی عمل اور پولیس کی نااہلی پر کھل کر تنقید کی۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے جذباتی خطاب میں مقتول خاتون کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس عورت نے اپنی عزت پر موت کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا مرد کی بچی تھی، اُس نے کہا مجھے ہاتھ مت لگانا، اب کمیٹیوں کا وقت نہیں، سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واقعے کو اجتماعی اخلاقی دیوالیہ پن قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی ماں، بہن اور بیٹی کو محفوظ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نئی نسل کو عورت کی عزت سکھانی ہوگی، ورنہ ایسے واقعات رکیں گے نہیں۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ جن چہروں نے جرگہ لگایا اور ویڈیو بنائی، وہ سب قاتل ہیں، ان سب کو سرِعام پھانسی دی جائے اور آئی جی، وزیراعلیٰ اور کابینہ مستعفی ہوں۔انہوں نے کہا قوم قاتلوں کو تختہ دار پر دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک ماہ میں کیس کا فیصلہ آنا چاہیے۔ن لیگ کے عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ صرف قتل نہیں بلکہ نظام کی ناکامی ہے۔ انہوں نے جرگہ کلچر کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا اور کہا ہم انڈیا سے الگ ہوئے، انہوں نے جرگہ نظام ختم کیا، ہم آج بھی اس کے غلام ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ یہ قتل غیرت کے نام پر نہیں بلکہ بے غیرتی کے نام پر ہوا۔ ان کا کہنا تھا یہ صرف خواتین کا نہیں، پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ یہ جرم ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے۔ایمل ولی خان نے مجرموں کو ڈی چوک پر سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ ریاستی ناکامی کی یہ سب سے بدترین مثال ہے۔

ایم کیو ایم کی خالدہ عطیب نے نجی عدالتوں اور جرگہ سسٹم کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے بحث کو اگلے اجلاس تک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ وقتی ردعمل سے آگے جا کر قانون سازی کا متقاضی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button