خلیجی خبریں

سعودی عرب میں موبائل شاپ میں لاکھوں درہم کی ڈکیتی کا ڈراپ سین ہو گیا

پولیس نے پُرتشدد واردات کرنے والے ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا، ملزمان پہلے ہی وارداتیں کر چکے تھے

سعودی عرب میں چند روز قبل ڈکیتی کی ایک واردات سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی تھی۔ یہ واقعہ ریاض شہر کے ایک علاقے لبن کی موبائل شاپ میں صبح کے وقت پیش آیاتھا، جس میں ڈاکو موبائل شاپ کے مالک اور کارکن کوشدید زخمی کر کے2 لاکھ ریال مالیت کی نقدی اور موبائل فونزلوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔دن دیہاڑے ہونے والی اس خونی واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔

ریاض پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ موبائل شاپ میں ڈکیتی کرنے والے دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو مقامی باشندے ہیں۔ ریاض پولیس کے ترجمان پولیس ترجمان ترجمان خالد الکریدیس نے بتایا کہ ملزمان کی عمریں 20 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ ان کا پہلے بھی مجرمانہ ریکارڈ تھا۔
ڈکیتی کی واردات کی اطلاع ملنے پر پولیس کی ایک خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی جس نے ملزمان کا تین روز کے اندر اندر سراغ لگانے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا ہے۔

دونوں ملزمان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ انہوں نے یہ واردات انجام دینے کے لیے ایک چوری شدہ گاڑی استعمال کی تھی جبکہ انگلیوں کے نشانات چھپانے کے لیے دستانوں کا استعمال کیا۔ پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف ڈکیتی اور قاتلانہ حملے کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ اس واردات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

اس وڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ دو ڈاکو ایک موبائل شاپ میں گھستے ہیں ۔ جن میں ایک کے ہاتھ میں پستول اور دوسرے کے ہاتھ میں ٹوکہ ہے۔ اس کے بعد اگلے منظر میں موبائل شاپ کا ایک کارکن بھاگتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور مسلح شخص اس کا پیچھا کرتا ہے۔اگلے منظر میں ایک ملزم کیش کاوٴنٹر سے رقم نکالنے کے لیے آگے بڑھتا نظر آتا ہے اور دوسرا ملزم موبائل اور رقم سمیٹ رہا ہے۔ایک منظر میں موبائل شاپ کا ایک ملازم درد سے کراہتا دکھائی دیتا ہے ، جس سے لگتا ہے کہ ملزمان نے اس پر حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا ہے۔ ا س حوالے سے موبائل شاپ کے زخمی مالک کے بھائی سعود نے بتایا تھا کہ اس واردات کے دوران اس کا بھائی زخمی ہوا ہے ، تاہم اب اس کی حالت بہتر ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button