پاکستانی خبریں

ایک اور پی آئی اے کریو ممبر کینیڈا میں لاپتہ، رواں سال تیسرا واقعہ رپورٹ

خلیج اردو

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ایک اور کیبن کریو ممبر کینیڈا پہنچنے کے بعد لاپتہ ہوگیا، جو اس سال رپورٹ ہونے والا تیسرا واقعہ ہے۔ لاپتہ ہونے والے سینئر فلائٹ اٹینڈنٹ کی شناخت آصف نجم کے نام سے ہوئی ہے، جنہوں نے 16 نومبر کو لاہور سے ٹورنٹو پہنچنے والی پرواز PK-789 پر ڈیوٹی کی تھی۔

پی آئی اے کے مطابق آصف نجم نے 19 نومبر کو ٹورنٹو سے لاہور جانے والی پرواز PK-798 کے لیے رپورٹ نہیں کیا۔ ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے رابطہ کرنے پر انہوں نے علالت کا بہانہ کیا، تاہم وہ پرواز کے لیے موجود نہ تھے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر غیرقانونی طور پر لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی تو متعلقہ فلائٹ اسٹیورڈ کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے مطابق بار بار رابطے کے باوجود آصف نجم نے متبادل پرواز میں بھی بورڈنگ نہیں کی، جس کے بعد باقاعدہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

ایک بڑھتا ہوا رجحان
آصف نجم کا واقعہ ان درجنوں کیسز میں اضافہ ہے جن میں پی آئی اے کے کریو ممبرز کینیڈا میں قیام کے دوران غائب ہو جاتے ہیں۔ معاشی دباؤ اور کینیڈا کی پناہ گزین پالیسیوں کو اس رجحان کی بنیادی وجوہات قرار دیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں یہ سلسلہ تیزی سے بڑھا ہے:

اکتوبر 2024 میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی کیبن کریو ممبر ٹورنٹو میں لاپتہ ہو گئی۔
مارچ 2024 میں 47 سالہ فلائٹ اسٹیورڈ کینیڈا میں غائب ہوگیا۔
فروری 2024 میں ایک اور کریو ممبر PK-782 کے ذریعے ٹورنٹو پہنچنے کے بعد واپسی کی پرواز کے لیے رپورٹ نہ کر سکا۔

پی آئی اے کے مطابق 2022 اور 2023 کے دوران آٹھ کریو ممبرز کینیڈا میں غائب ہو گئے تھے، جب کہ 2024 کے آغاز تک یہ تعداد بڑھ کر دس ہوگئی، جن میں ایئرہوسٹس مریم رضا اور فلائٹ اسٹیورڈ جبران بلوچ بھی شامل تھے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button