
خلیج اردو
میلبورن: آسٹریلیا میں "مشروم مرڈر” کے نام سے مشہور مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، جس میں 49 سالہ خاتون ایرین پیٹرسن کو اپنی ساس، سسر اور ایک اور قریبی عزیز کو زہریلے مشروم کھلا کر ہلاک کرنے کا جرم ثابت ہو گیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ایرین پیٹرسن نے جولائی 2023 میں اپنے سسرالی رشتہ داروں کو گھر پر دعوت دی اور انہیں ایک ایسا کھانا پیش کیا جس میں جان لیوا قسم کے زہریلے مشروم شامل تھے۔ کھانے کے بعد تینوں افراد کی حالت غیر ہو گئی اور کچھ ہی روز میں ان کی موت واقع ہو گئی۔
اس ہولناک واقعے نے آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں شدید سنسنی پھیلائی تھی، جب کہ مقدمے کی عدالتی کارروائی کو عالمی میڈیا نے قریب سے مانیٹر کیا۔ پولیس کی تفتیش اور فرانزک رپورٹ میں واضح شواہد ملنے کے بعد ایرین پیٹرسن کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالت نے مجرم کو قصوروار ٹھہرا کر سزائے قید سنانے کا عندیہ دیا ہے، جب کہ سزاکا حتمی اعلان آئندہ سماعت میں متوقع ہے۔






