پاکستانی خبریں

عمرکوٹ میں پی ٹی آئی اور ن لیگ ایک پیج پر تھیں، پھر بھی پیپلز پارٹی نے سب کو تاریخی شکست دی، بلاول بھٹو کا حیدرآباد جلسے سے خطاب

خلیج اردو
حیدرآباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمر کوٹ میں پی ٹی آئی اور ن لیگ ایک پیج پر تھیں، پیپلز پارٹی کو ہرانے کے لیے سب اکٹھے ہو گئے تھے، اس کے باوجود سب کو تاریخی شکست دے کر پیپلز پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ حیدرآباد میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں، وہ کینالز کو مسترد کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کے عوام نے بار بار ثابت کیا ہے کہ نہ میر کا، نہ پیر کا، ووٹ صرف بینظیر کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کی خدمت ہی ہماری سیاست کا مرکز ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ ہمارے دور میں تنخواہیں اور پنشن میں اضافہ ہوا، عوام نے جو بھروسہ کیا وہ ہم نبھائیں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے سے باز رہے۔

 بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ میں پیچھے ہٹوں گا، میں عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہمارے مطالبات کو نہ مانا گیا تو پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ نہیں چل سکے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کرنی ہے تو پیپلز پارٹی کے جیالے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وفاق کی ترقی ہو، مگر اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر یہ لوگ ہمارے مطالبات ماننے کو تیار نہیں تو ہم بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم وزارت لینے یا کسی ساتھی کو جیل سے چھڑانے کے لیے نہیں نکلے۔ میرے پاس فارم 47 یا سلیکٹڈ سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ عوام کی طاقت ہے۔

انہوں نے دو بار دہرا کر کہا کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ میں پیچھے ہٹوں گا، میں عوام کے ساتھ کھڑا ہوں، اور اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ نہیں چل سکے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کا صدر منظوری دینے کو تیار نہیں تو آپ کی ضد کی وجہ کیا ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ وفاق ترقی کرے لیکن اصولوں سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ اگر آپ نے تھرپارکر کو آباد کرنا ہے تو بسم اللہ، ہم ساتھ ہیں، لیکن سندھ کا سودا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں ترقی کے طریقے موجود ہیں، اگر متنازع منصوبے روکے جائیں تو ہم زراعت میں 50 فیصد ترقی کا منصوبہ دینے کو تیار ہیں، مگر افسوس کہ یہ لوگ ہماری بات سننے اور عوام کو دیکھنے تک کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پورے ملک میں دہشتگردی کی آگ بھڑک رہی ہے، آپ نے متنازع موضوع چھیڑ کر بھائی کو بھائی سے، اور وفاق کو صوبوں سے لڑانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وجہ سے وفاق میں حکومت قائم ہے، اور آج اگر شہباز شریف وزیراعظم ہیں تو انہیں حیدرآباد کی عوام کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں وفاق میں وزارتیں نہیں چاہیے، ہمیں عزت چاہیے۔ پانی کی تقسیم کا منصوبہ وفاق کے لیے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر وفاق سننے کو تیار نہیں تو ہم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے شہباز شریف اور حیدرآباد کی عوام کے درمیان فیصلہ کرنا ہو تو یہ کوئی مشکل فیصلہ نہیں، میں ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں ترقی ہو، عوام کو روزگار ملے، ہم ساتھ چلنے کو تیار ہیں، مگر کسانوں کے معاشی قتل میں شریک نہیں ہو سکتے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ قائد انقلاب ذوالفقار علی بھٹو نے ہاریوں کو زمینوں کا مالک بنایا، آصف علی زرداری نے زراعت کے شعبے کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ جو پیسہ آٹا باہر سے منگوانے پر خرچ ہوتا تھا، صدر زرداری نے وہ پیسہ پاکستانی کسانوں کو دیا، دوسرے ملکوں سے آٹا خریدنے کے بجائے اپنے کسانوں سے خریداری کی گئی۔ انہوں نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ہر منصوبہ کسان دشمن ہے اور افسوس کہ وہ آج بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ زراعت کے شعبے پر بے تحاشا ٹیکس نافذ کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث کسانوں کا معاشی قتل عام ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دو کینالز کی اجازت دی تھی، تو پیپلز پارٹی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے پانی کی منصفانہ تقسیم کی جنگ لڑی۔ وہ وفاق کی زنجیر تھیں۔ جب انہوں نے متنازع ڈیم کے خلاف آواز اٹھائی تو ملک کے سب شہروں سے قافلے آئے تھے، چاروں صوبوں نے بھائیوں کی طرح ایک ساتھ مل کر احتجاج کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 26ویں ترمیم سے پہلے، دوران اور بعد میں کینالز کے خلاف آواز اٹھائی۔ آپ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ آپ پاکستان کھپے کہنے والوں کے ساتھ ہیں۔ شہید بینظیر بھٹو ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہوتی تھیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ سندھ سے "نہ کھپے” کے نعرے لگیں، لیکن آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کو بچایا۔ ہم نے ہمیشہ مل کر جدوجہد کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آصف علی زرداری نے ملک سے آمریت کا خاتمہ کیا، 18ویں آئینی ترمیم دی۔ اس پرچم کو تھام کر ہم نے جنرل ضیاء اور مشرف کو شکست دی۔

ضمنی انتخابات کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جیت سب کو مبارک ہو۔ میں پیپلز پارٹی کے جیالوں کو عمرکوٹ میں کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ سندھ کے عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے بار بار ثابت کیا کہ نہ میر کا، نہ پیر کا، ووٹ صرف بینظیر کا ہے۔ پیپلز پارٹی نے عمرکوٹ میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے، جہاں پی ٹی آئی اور ن لیگ ایک پیج پر تھیں اور پیپلز پارٹی کو ہرانے کے لیے سب اکٹھے ہو گئے تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں عمرکوٹ کے عوام کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے انہیں تاریخی شکست دی ہے۔ اصولی طور پر اس صوبے کے عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ آج بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے اسلام آباد کو ہرایا ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا کہ صوبے کی عوام کینالز کے منصوبے کو مسترد کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔ جب بھی ہم کسی تحریک کے لیے نکلتے ہیں تو حیدرآباد ضرور آتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button