پاکستانی خبریں

آپ کیلئے شراب حلال ہمارے لئے حرام ہے۔سیکیورٹی اداروں کا مذاق اڑانا بند ہونا چاہیے،فیصل واوڈا

خلیج اردو
اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ عدلیہ میں مداخلت کا ثبوت ہے تو پیش کریں، ورنہ ابہام بڑھ رہا ہے۔ الزامات کے ثبوت دینا ہوں گے،ایسا نہیں ہو سکتا کہ دوہری شہریت والے عدالتوں میں بیٹھیں، آپ کیلئے شراب حلال ہمارے لئے حرام ہے۔اداروں کا مذاق اڑانا بند ہونا چاہیےاگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو فراہم کیے جائیں ہم ساتھ کھڑے ہونگے

 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ شواہد یا ثبوت کے بغیر عدالت نہیں کارروائی کرتی ۔ کس قانون کے تحت زرداری کو 14 سال جیل ہوئی؟۔ بلیک لا ڈکشنری کے تحت تنخواہ نہ لینے پر نواز شریف کو سزا دی ، پی آئی اے اسٹے آرڈر، سستی روٹی اسٹے آرڈر کب تک ایسا چلتا رہے گا۔ سیاست دان اگر دہری شہریت نہیں رکھ سکتا تو جج کیسے دہری شہریت کے ساتھ بیٹھے ہیں؟۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

فیصل واوڈا نے کہا کہ محاذ آرائی سے دُور رہیں ۔ ان کاموں کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنی ذات نہیں سارے پاکستان کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائیں، صرف اپنے لیے نہیں ۔ میری پگڑیاں اچھالی گئیں، اب پاکستان کی جو پگڑی اچھالے گا ان کی پگڑیوں کا فٹ بال بنائیں گے۔ اداروں کو نشانہ بنانا بند کریں کافی ہو گیا ۔ فوج نہیں ہو گی تو پاکستان بھی نہیں بچے گا ۔

 

فیصل واوڈا نے سوال اٹھایا کہ جج دہری شہریت پر کیسے بیٹھے ہوئے ہیں پاکستان کے ساتھ بہت زیادہ مذاق اور کھلواڑ ہوگیا ہے، یہ شک و شبہات ختم ہونا چاہیے، امید کررہا ہوں جواب جلد آئے گا،آنا چاہیے ہم جواب لیں گے۔ آئین قانون میں کہاں لکھا ہے بارڈرز پر فوجی اور پولیس والے اپنی جانیں دیں گے، بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے، شواہد دیں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو معاشی بحران سے بچانا ہے، اب جو پاکستان میں پگڑی اچھالے گا تو ان کی پگڑیوں کا فٹ بال ہم بنائیں گے، کوئی بدمعاشی کرے گا تو ڈبل بدمعاشی کریں گے، ہمارے اداروں کا مذاق اڑایا جارہا ہے، سیاستدان بھی شامل ہیں، یہ سب بند کریں، اگر اداروں کی کہیں مداخلت ہے تو ثبوت دیں ہم ساتھ کھڑے ہوں گے

 

سینیٹر فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جسٹس منصور علی شاہ اور عائشہ احد کے سامنے بیٹھ کر آپ کا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے۔ اطہر من اللہ بہت اصول پسند آدمی ہیں ۔ وہ نہ حماقت کرتے ہیں نہ کرنے دیں گے ۔ میرا گمان ہے جسٹس اطہرمن اللہ کسی سے ڈرتے نہیں۔ نہ کسی سے ملتے ہیں۔ وہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے سے بھی نہیں ملتے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button