پاکستانی خبریں

بعض مرد شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خواتین سے ان کے وراثتی حقوق چھین لیتے ہیںلاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ، بیوہ خاتون کو 27 سال بعد وراثتی حق دلوا دیا گیا

خلیج اردو
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں 27 سال بعد بیوہ خاتون کو ان کی وراثتی جائیداد میں حصہ دلواتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بیوہ خاتون کو اس کے جائز وراثتی حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بعض مرد شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خواتین سے ان کے وراثتی حقوق چھین لیتے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔ مقدمے میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ والد کی وفات کے بعد بھائی نے جائیداد میں حصہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی اور کچھ عرصے تک زمین سے ہونے والی آمدن کا حصہ بھی ارسال کرتا رہا، تاہم بہنوئی کی وفات کے بعد بھائی نے وراثتی جائیداد میں حصہ دینے سے انکار کر دیا۔

عدالت نے حق دار خاتون کو اس کا جائز حصہ دلانے کا حکم دیتے ہوئے انصاف کی دیرینہ پیاس بجھائی، جسے خواتین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button