پاکستانی خبریں

آئی ایم ایف وفد کا دورہ پاکستان مکمل، بجٹ اہداف پر مکمل اتفاق نہ ہو سکا، مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق

خلیج اردو
اسلام آباد – بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے پاکستان کا دورہ مکمل کر لیا ہے، تاہم آئندہ بجٹ کے اہم اہداف پر فریقین کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ مشن نے دورۂ پاکستان کے اختتام پر جاری اعلامیے میں واضح کیا کہ مذاکرات تعمیری ماحول میں جاری رہیں گے۔

آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام سے بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر تعمیری بات چیت ہوئی ہے اور حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا اگلا معاشی جائزہ رواں سال کی دوسری ششماہی میں متوقع ہے۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان نے پرائمری سرپلس کا ہدف 1.6 فیصد مقرر کیا ہے۔ مذاکرات میں ٹیکس آمدن میں اضافہ، سبسڈیز میں کمی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا۔ آئی ایم ایف نے معاشی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کو ترجیح قرار دیا ہے۔

ادارے نے حکومت پر زور دیا کہ مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی سطح پر لایا جائے، جبکہ توانائی کے شعبے میں لاگت میں کمی لانا بھی لازمی ہے تاکہ گردشی قرضوں کا بوجھ کم ہو سکے۔ آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستانی حکام نے مالیاتی استحکام کے لیے اپنے عزم کو دہرایا اور اصلاحات جاری رکھنے کا یقین دلایا۔

وفاقی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق بعض اہم نکات، خصوصاً ٹیکس نیٹ میں توسیع، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے دائرے میں ردوبدل اور توانائی نرخوں پر دی جانے والی سبسڈیز، مذاکرات میں اختلاف کا سبب بنے۔ ان امور پر آئندہ دنوں میں مزید مذاکرات ہوں گے تاکہ بجٹ کے اہداف کو حتمی شکل دی جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button