پاکستانی خبریں

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع تب کی جائے جب انتخابات کا اعلان کیا جائے، عمران خان

خلیج اردو

عاطف خان خٹک

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات فوری انتخابات سے مشروط کردی۔ کہتے ہیں کہ میں نے جو انٹرویو میں کہا اسے غلط سمجھا گیا۔

 

بنی گالہ میں صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان نے ستمبر میں ایک مرتبہ پھر سونامی کا رخ اسلام آباد کیطرف کرنے کا عندیہ دے دیا۔ کہا کہ الیکشن کا اعلان کیا جائے ورنہ ستمبر میں فیصلہ کن احتجاج ہوگا۔مارچ میں الیکشن منظور نہیں۔ موجودہ الیکشن کمیشن ن لیگ کمیشن ہے۔

 

مسٹر خان نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی بات نہیں کی تاہم یہ فوری انتخابات سے مشروط ہوسکتی ہے۔ نئی حکومت کے انتخاب تک آرمی چیف کی تعیناتی مؤخر کی جائے۔گزشتہ روز کے انٹرویو ان سوئنگر قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان سوئنگر یارکرز پر بڑے بڑے بلے باز بولڈ ہوجاتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آرہی کیا بات کریں۔

 

عمران خان نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ چند روز مبینہ رجیم جینج آپریشن میں شامل لوگوں کے نام پبلک کردو۔ انکشاف کیا کہ حکومت نے ان کی گرفتاری کی ایک بار کوشش کی تھی اور جب یہ مجھے گرفتار کرنے کیلئے آرہے تھے

تو میں نے جیل جانے کیلئے اپنا سامان  باندھ لیا تھا۔

 

مسٹر خان نے الزام لگایا کہ چند لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگایا ہوا ہے۔ بولے کہ سابق دو خاندانوں کو کبھی بھی آرمی چیف کا نام سلیکٹ نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے اتنا کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہو لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس پر آئی ایس پی آر نے کیوں بیان جاری کیا؟

 

عمران خان نے ملکی معاشی صورتحال پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا کہا کہ بھٹو اور شریف خاندان نے ملک کو بنگلہ دیش سے پیچھے کردیا طنز کیا کہ نواز شریف پاکستان آئے تو انکا تاریخی استقبال کروں گا۔ خدشہ ظاہر کیا کہ سیاسی عدم استحکام کیوجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف جاسکتا ہے۔

 

سابق وزیر اعظم نے سابق باوردی صدر پرویز مشرف کے دور کو آج کے دور سے بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں عدم استحکام لانے والے ملک کا نقصان کرینگے۔ انہوں نے منتبہ کیا کہ اگر دیوار سے لگایا گیا تو پوری قوم میرے ساتھ ہے۔ ملک جام کردوں گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button