
خلیج اردو
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود طالبان نمائندہ حکومت نہیں اور ان کے اقتدار میں آنے پر کسی جشن کا انعقاد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کے معاملات کا حل ایسی حکومت ہے جو عوام کی نمائندہ ہو۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان پالیسی سازی میں مکمل خودمختار ہے اور ملک کی سرزمین سے افغانستان پر کسی قسم کے حملوں کی اجازت کبھی نہیں دی گئی، جو دعوے کیے جا رہے ہیں وہ افغانستان کا پروپیگنڈا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خارجی عناصر اپنے ٹھکانے سرحدی علاقوں سے شہری آبادیوں میں منتقل کر رہے ہیں، جس سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہے۔
پاک فوج افغان طالبان کے ساتھ مسئلے کے حل کی خواہاں ہے اور امن کو ترجیح دیتی ہے، تاہم دہشت گردوں سے کبھی بات چیت قبول نہیں کی جائے گی۔ دوحہ میں طے شدہ امور کے مطابق لویا جرگے کا انعقاد ہونا تھا، مگر دہشت گردی کے خاتمے کو اولین اہمیت دی جا رہی ہے۔ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ فتنے الخوارج کے خلاف آپریشنز میں 1667 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور پاکستان کا ردعمل فوری اور موثر رہا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ افغانستان سے ہونے والی بعض دہشت گردی میں افغان فورسز کے عناصر بھی ملوث رہے ہیں اور پاکستان کا واحد ایجنڈا یہ ہے کہ افغان سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ غزہ کے معاملے پر عسکری کارروائی کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ مل کر کریں گی۔
ایک کھلی وارننگ میں ترجمان نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت سمندر کے راستے کسی فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لے سکتا ہے تاکہ بعد میں پاکستان کے خلاف بڑی کارروائی کا الزام لگایا جائے؛ پاکستان مکمل طور پر الرٹ ہے اور اس بار جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جو کچھ کرنا چاہے، زمینی، سمندری یا فضائی اقدامات کرے، پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔






