
خلیج اردو
پاکستان تیز رفتار انٹرنیٹ کے نئے دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں فائیو جی سپیکٹرم کے لیے لائسنس کی نیلامی کا عمل مکمل کر لیا گیا۔ تقریب میں حکومتی نمائندوں نے اسے ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے خطاب میں بتایا کہ 600 میگاہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی سے مجموعی طور پر 50 کروڑ 70 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایت تھی کہ نیلامی کے پورے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، اسی لیے آکشن کو براہ راست نشر بھی کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ چار سے پانچ ماہ کے اندر ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی سروس کا آغاز کر دیا جائے گا جس سے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت میسر آئے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے جبکہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر توانائی کی بچت کے اقدامات بھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق آئی ٹی کے شعبے کے لیے آج کا دن انتہائی اہم ہے کیونکہ فائیو جی ٹیکنالوجی سے آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
وزیر آئی ٹی نے کہا کہ فائیو جی ٹیکنالوجی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی اور اس سے زراعت، صنعت، تجارت اور قومی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں جدت آئے گی۔ ان کے مطابق تیز، قابل اعتماد اور سستا انٹرنیٹ اب شہریوں کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
وزیر مملکت برائے اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سپیکٹرم آکشن کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے مشترکہ تعاون سے یہ سنگ میل حاصل کیا گیا۔ انہوں نے سیکرٹری آئی ٹی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز سے نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی برآمدات اور جدید کاروباری مواقع بھی تیزی سے فروغ پائیں گے۔






