
خلیج اردو
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات کے باعث آئندہ چند دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور یہ فیصلہ ممکنہ طور پر ناگزیر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر کم سے کم ڈالا جائے اور معاشی دباؤ کو متوازن انداز میں سنبھالا جائے۔
وزیراعظم نے سرکاری اخراجات میں 20 فیصد کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں میں رواں ہفتے کے اختتام سے دو ہفتوں کی تعطیلات دی جائیں گی اور فوری طور پر آن لائن کلاسز کا نظام شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں پچاس فیصد عملہ گھروں سے کام کرے گا جبکہ ہفتے میں چار دن کام کرنے کی پالیسی نافذ کی جائے گی۔
وزیراعظم کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں بھی نمایاں کمی کی جائے گی اور ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیاں بند رکھی جائیں گی جبکہ سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول میں دو ماہ کے لیے پچاس فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ دو ماہ تک تنخواہ نہیں لے گی جبکہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں پچیس فیصد کمی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دو دن کی کٹوتی کی جائے گی۔
اس کے علاوہ بیرون ملک سرکاری دوروں، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری سیمینارز اور کانفرنسیں ہوٹلوں کے بجائے سرکاری عمارتوں میں منعقد کی جائیں گی تاکہ اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کا مقصد ممکنہ عالمی معاشی دباؤ کے دوران ملکی معیشت کو مستحکم رکھنا اور توانائی کے استعمال کو محدود کرنا ہے۔







