
خلیج اردو
مظفرآباد: 22 مئی، 2025
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت نے براہموس میزائلوں سے حملہ کر کے سنگین جارحیت کا ارتکاب کیا، مگر پاکستان نے الفتح میزائل کے ذریعے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دشمن کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 1971 کی جنگ کا بدلہ بھی لے لیا ہے، اور اب مودی کسی حملے سے پہلے 100 بار سوچنے پر مجبور ہوگا۔
وزیراعظم مظفرآباد میں بھارتی جارحیت سے متاثرہ خاندانوں میں امدادی چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمیں نیوکلیئر ہتھیاروں کی ضرورت تک محسوس نہیں ہوئی۔ پاکستان نے محدود مگر انتہائی مؤثر ردعمل دے کر دشمن کو واضح پیغام دے دیا کہ ہماری خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت نے بے بنیاد الزامات لگا کر نہ صرف پاکستان پر حملہ کیا بلکہ ہمارا پانی بھی بند کیا۔ مگر پاکستان نے جرات مندی اور دانشمندی سے بھارتی سازش کو ناکام بنایا۔ پہلگام واقعہ افسوسناک تھا، مگر بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور شفاف تحقیقات کی ہماری پیشکش کو بھی مسترد کیا۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ بھارتی حملے کے شہداء کے ورثا کو ایک کروڑ سے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے تک معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ زخمیوں کو 20 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جائے گی۔ شہداء کے اہل خانہ کو ریٹائرمنٹ کی مدت تک مکمل تنخواہیں اور الاؤنسز بھی دیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ امدادی پیکیج حکومت کی ذمہ داری ہے، اور پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ سپہ سالار نے حملے کے بعد بتایا کہ بھارت سیز فائر کے لیے تیار ہو چکا ہے، اور پاکستان نے اپنی شرائط پر جنگ بندی کی۔







