
خلیج اردو
نیویارک: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، تاہم رواں سال عالمی صحافتی تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز” کی جانب سے جاری کردہ عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی مزید نیچے چلی گئی ہے۔ 180 ممالک پر مشتمل اس انڈیکس میں پاکستان 152ویں سے 158ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے، جو کہ آزادی صحافت پر بڑھتی ہوئی قدغنوں کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں صحافتی آزادی کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں میڈیا ادارے نہ صرف سنسرشپ کا شکار ہیں بلکہ مالی دباؤ کے ذریعے بھی ان کی آزادی محدود کی جا رہی ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے کہا کہ آمرانہ حکومتیں خبر رساں اداروں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقتصادی حربے استعمال کر رہی ہیں، جس سے آزادی صحافت کا تصور شدید متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی ممالک میں معاشی مسائل کے باعث اخبارات اور نیوز چینل بند ہو رہے ہیں۔ رپورٹ نے بھارت میں میڈیا کی ملکیت محدود سیاسی اشرافیہ کے کنٹرول میں ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا اور اسے آزاد صحافت کے لیے خطرناک قرار دیا۔
فلسطین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں تقریباً 200 صحافی شہید ہو چکے ہیں، جو کہ صحافتی آزادی پر ایک المناک حملہ ہے۔






