پاکستانی خبریں

بلوچستان میں ظلم پر سب بولتے ہیں، پنجاب کے مظلوموں پر خاموشی کیوں؟ عظمیٰ بخاری کا سوال

خلیج اردو
لاہور: وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب بلوچستان میں کسی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو ہم سب مذمت کرتے ہیں، لیکن انسانی حقوق کے چیمپئن پنجاب میں ایسے واقعات پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض افراد حالات کی خرابی کا تاثر دیتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ اگر خطرہ ہے تو بلوچستان جاتے کیوں ہیں؟ ایسی باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

عظمیٰ بخاری نے زور دیا کہ ریاست کو دہشتگردوں کے خلاف سخت اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے مظلوم خاندانوں سے دلی تعزیت کا پیغام ہے اور حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ صحت کارڈ بند کرنے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، علاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت پنجاب حکومت کا اولین ایجنڈا ہے۔

لاہور میں حالیہ طوفانی بارشوں کے حوالے سے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پانی جمع ہونا قدرتی امر ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی بیشتر تصاویر ڈی ایچ اے کی ہیں، جو کہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایچ اے کے رہائشی اپنے ووٹوں سے منتخب کردہ نمائندوں سے سوال کریں۔

وزیراطلاعات نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے منفی تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب زمینی حقائق کے مطابق اقدامات کر رہی ہے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button