
خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے بانجھ پن کی بنیاد پر مہر اور نان و نفقہ سے انکار کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے شوہر کی نان و نفقہ کے خلاف درخواست مسترد کر دی اور درخواست گزار صالح محمد پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
عدالت نے شوہر کے بیوی پر بانجھ پن اور عورت نہ ہونے جیسے الزامات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ بانجھ پن کسی صورت حق مہر یا نان و نفقہ روکنے کی وجہ نہیں بن سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ خواتین پر ذاتی حملے اور تضحیک عدالت میں ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے اپنی بیوی کو والدین کے گھر چھوڑ کر دوسری شادی کر لی اور پہلی بیوی کے حق مہر اور نان و نفقہ سے انکار کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عورت کی عزت نفس ہر حال میں محفوظ ہونی چاہیے اور خواتین کی تضحیک معاشرتی تعصب کو فروغ دیتی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ بیوی کی میڈیکل رپورٹس نے شوہر کے تمام الزامات کو غلط ثابت کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے اور ایسی روایات اور سوچ کو ختم کرنا ہوگا جو خواتین کی تحقیر کا باعث بنتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ متاثرہ خاتون کو دس سال تک ذہنی اذیت اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا، جو ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے جھوٹے الزامات اور عدالتی وقت ضائع کرنے پر درخواست گزار پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔






