
خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جو اسی ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 9 مئی کے جناح ہاؤس حملے کے معاملے پر پاک فوج نے محکمانہ کارروائی کی ہے۔
اٹارنی جنرل کے مطابق غفلت برتنے پر تین اعلیٰ فوجی افسران کو بغیر پنشن اور مراعات کے ریٹائر کر دیا گیا، جب کہ 14 افسران کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ان کی مزید ترقی روک دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 9 مئی کے واقعات اتفاقیہ نہیں تھے بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت انجام دیے گئے جرائم تھے۔
بینچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ “ہمیں اپنا کوئی مسئلہ نہیں، ہم ملک کے مستقبل کا سوچ رہے ہیں۔” بینچ نے اس بات پر زور دیا کہ قانون اور آئین کے تقاضے پورے کیے جائیں گے اور تمام فریقین کو سنا گیا ہے۔
عدالت کی جانب سے محفوظ کیا گیا فیصلہ نہ صرف فوجی عدالتوں کی قانونی حیثیت بلکہ آئندہ کے لیے سویلینز کے ٹرائل سے متعلق اہم نظیر قائم کرے گا۔







