
خلیج اردو
سوات: ضلع سوات کے علاقے چلیار میں ایک کمسن طالبعلم فرحان اپنے مدرسے کے اساتذہ کے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق واقعہ پیر کی شام پیش آیا جب فرحان چند روز کی غیر حاضری کے بعد مدرسے واپس آیا تھا۔
سوات پولیس کے ترجمان معین فیاض کے مطابق، مدرسے کے تین اساتذہ نے دیگر طلبہ کے سامنے فرحان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک ساتھی طالبعلم کے مطابق، "استادوں نے پہلے اسے سب کے سامنے مارا، پھر ایک کمرے میں لے جا کر تشدد جاری رکھا۔ بعد میں مجھے پانی لانے کو کہا گیا، وہ تھوڑا سا پانی پینے کے بعد میرے زانو پر سر رکھ کر خاموش ہو گیا۔”
طلبہ اور اساتذہ نے فوری طور پر فرحان کو نزدیکی اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کی۔ واقعے کی ایف آئی آر تینوں ملزمان کے خلاف دفعہ 302 (قتل عمد)، دفعہ 34 (مشترکہ ارادہ) اور چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 37 کے تحت درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ باقیوں کی تلاش جاری ہے۔
فرحان کے چچا صدر ایاز کے مطابق، "جب وہ گھر پر تھا تو مدرسے جانے سے ڈرتا تھا، مگر میں ہی اسے لے جا کر اساتذہ کے حوالے کر کے واپس آیا۔ شام کو ایک استاد نے فون کر کے بتایا کہ وہ بیت الخلا میں گر کر مر گیا ہے۔”
واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی شہریوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف ملزمان کو سزا دی جائے بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ 2010 اور 2018 کے ضوابط کے تحت جسمانی سزا قابل سزا جرم ہے، جس پر چھ ماہ قید یا پچاس ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ مئی میں نجی اسکولوں میں جسمانی سزا پر پابندی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا، تاہم ایسے واقعات بدستور جاری ہیں۔
خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں بچوں کے ساتھ 33 مختلف قسم کے تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 14 جسمانی تشدد کے تھے۔ اپریل میں قصور میں بھی ایک مدرسے کے استاد کو طالبعلم کو گرم استری سے جلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔






