متحدہ عرب امارات

دبئی میں مقیم بھارتی شہری کا شاندار سفر: 10 ماہ میں 37 کلو وزن کم کرنے میں کامیاب

خلیج اردو
دبئی: دبئی میں مقیم 35 سالہ بھارتی شہری انکت سنگھ بھنڈاری نے 10 ماہ کے اندر 37 کلو وزن کم کرکے ایک متاثرکن مثال قائم کی ہے۔ انکت نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ موٹاپے کی سب سے بڑی اذیت جسمانی تکلیف اور روزمرہ کے معمولات میں دقت ہوتی ہے، جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

182 سینٹی میٹر قد کے حامل انکت کا وزن ایک وقت میں 135 کلوگرام تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف لچکدار بیلٹ استعمال کرتے تھے کیونکہ کھانے کے بعد انہیں اکثر پتلون کے بٹن کھولنے پڑتے۔ معدے کی شدید خرابی کے باعث وہ ہر وقت اینٹی ایسڈ ساتھ رکھتے تھے۔

ایک کشمیری شادی میں شرکت کے دوران، انکت نے ایک ایسا واقعہ یاد کیا جب انہوں نے چار افراد کے لیے مخصوص ایک بڑے گوشت کے کباب کو تنہا کھا لیا اور مزید طلب کی، جس پر سب حیرت زدہ رہ گئے۔ اسی رات ان کی بے احتیاطی کی حد یہاں تک جا پہنچی کہ انہوں نے کھانے کے ہال میں ہی سونے کا فیصلہ کیا۔

وزن بڑھنے کے ساتھ ساتھ انہیں نیند میں سانس رکنے کی بیماری (Sleep Apnoea) اور خون کی رگوں میں سوجن (Varicose Veins) جیسی بیماریوں کا سامنا بھی ہوا، جس پر ڈاکٹروں نے سرجری کی تجویز دی، تاہم ایک قریبی فیملی ڈاکٹر نے طرزِ زندگی بدلنے کا مشورہ دیا۔ انکت نے اس موقعے کو سنجیدگی سے لیا اور ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔

انہوں نے انسٹاگرام پر روزانہ کی پیش رفت ریکارڈ کرنا شروع کی، جس سے خود کو جواب دہ رکھنے میں مدد ملی۔ دس ماہ میں 37 کلو وزن کم کرنے کے بعد ان کا سائز پانچ ایکس ایل سے میڈیم-لارج ہو چکا ہے۔ ان کے بقول: “ذہنی اور جسمانی دونوں حوالوں سے خود کو مضبوط محسوس کر رہا ہوں۔”

انکت نے اپنے سفر کا آغاز ایک مخصوص دوا Mounjaro سے کیا، جو بھوک کم کرنے میں مدد دیتی ہے، مگر توانائی اور پٹھوں کی کمزوری کے باعث انہوں نے بعد میں منصوبہ بدلا۔ انہوں نے ‘Swap-it’ پروگرام اپنایا، جس میں فزی ڈرنکس کو اسپارکلنگ واٹر سے بدلا، اور کھانے پینے میں ہوش مندی اختیار کی۔ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ وہ صرف اسٹریچنگ یا جسمانی لچک کی مشقوں پر صرف کرتے ہیں۔

ورزش کا آغاز چھ سات منٹ کی سادہ حرکتوں سے ہوا، جو رفتہ رفتہ کک باکسنگ، ویٹ ٹریننگ اور ہائی انٹینسٹی ورک آؤٹس تک پہنچا۔ انکت کا ماننا ہے کہ ورزش کو متنوع رکھنا بوریت سے بچاتا ہے اور مستقل مزاجی کو فروغ دیتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ وزن کم کرنے کے سفر میں اپنی تصاویر لینا اور جسمانی تبدیلیوں پر نظر رکھنا حوصلہ افزائی میں مدد دیتا ہے۔ وہ ورزش کو صبح اور شام دو اوقات میں تقسیم کرتے تھے، اور اپنی دل کی رفتار کو ایک اسمارٹ واچ کے ذریعے قابو میں رکھتے تھے۔

غذا کے لیے انہوں نے ایک ماہر غذائیت کی مدد لینے کے ساتھ ساتھ چیٹ جی پی ٹی کو بھی بطور ذاتی پلانر استعمال کیا، جو ان کی ضروریات کے مطابق خوراک کا منصوبہ مرتب کرتا رہا۔

انکت کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنا صرف جسمانی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ذہنی ارتقا ہے۔ جب جسم بدلتا ہے تو سوچ، لباس، شخصیت اور ترجیحات سب بدلنے لگتی ہیں، اور یہی وہ خوش آئند تبدیلی ہے جو اس سفر کا حقیقی انعام ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button