
خلیج اردو
اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 68 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ امدادی کارکن مزید لاشوں کی تلاش میں تباہ شدہ بوگیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ حادثہ میڈرڈ کے جنوب میں پیش آیا، جہاں تصادم کے بعد متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور کم از کم تین بوگیاں ڈھلوان سے نیچے جاگریں۔ رواں سال اسپین میں یہ دوسرا مہلک ریلوے حادثہ ہے، جبکہ 2013 کے بعد یورپ میں ٹرین کا یہ سب سے ہلاکت خیز حادثہ قرار دیا جارہا ہے۔
اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے بتایا کہ حادثے سے قبل ریلوے ٹریک پر موجود ایک ٹرین کے باعث سرخ سگنل فعال تھا، تاہم رینفے کی ٹرین کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ ان کے مطابق کمپیوٹر کے مواصلاتی نظام میں خرابی کے باعث ٹریفک خودکار طور پر روک دی گئی تھی، لیکن بعد میں ٹرین کو دوبارہ روانہ کرنے کا غلط فیصلہ کیا گیا، جو مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق نجی کمپنی ایریو کی ٹرین سگنل میں خرابی کے باعث ٹولیڈو کے قریب رک گئی تھی۔ اس کے بعد سرکاری کمپنی رینفے کی تیز رفتار ٹرین کھڑی ٹرین سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دونوں ٹرینوں کی متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ رینفے نے کہا ہے کہ اس کی ٹرین کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی اور تصادم کے اصل حالات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ریلوے انفراسٹرکچر کے منتظم ادارے ایڈف اور ایریو کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر ایمبولینسیں، ہیلی کاپٹر اور امدادی ٹیمیں پہنچ گئیں۔ زخمی مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ رضاکاروں نے انہیں پانی فراہم کیا۔ حکام کے مطابق ایریو کی ٹرین میں 147 اور رینفے کی ٹرین میں 397 مسافر سوار تھے۔ ہسپانوی وزیر صحت مونیکا گارسیا نے شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
حادثے میں زندہ بچ جانے والے مسافروں نے بتایا کہ تصادم کے وقت زوردار دھماکے جیسی آواز سنائی دی اور ٹرین میں شدید جھٹکا محسوس ہوا۔ ایک مسافر نے بتایا کہ ابتدا میں انہیں لگا کہ ٹرین نے ہنگامی بریک لگائی ہے، تاہم زخمی افراد کو دیکھنے اور انخلا کی ہدایت ملنے پر حادثے کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ ایک اور مسافر کے مطابق جائے وقوعہ پر تباہی کے مناظر تھے اور ٹرین کی ایک بوگی ڈھلوان سے نیچے لٹکی ہوئی تھی۔
اسپین میں اس سے قبل جنوری میں قرطبہ کے قریب دو تیز رفتار ٹرینوں کے حادثے میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے کے بعد ریلوے ٹریک کی دیکھ بھال اور مرمت پر سرکاری سرمایہ کاری کے حوالے سے بحث شروع ہوئی تھی۔ فروری میں سول گارڈ کی ابتدائی رپورٹ میں پٹڑی، ریل یا دو حصوں کو جوڑنے والی ویلڈ میں خرابی کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا تھا، تاہم دیگر امکانات کو بھی مسترد نہیں کیا گیا تھا۔
تازہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب اسپین میں 29 نومبر کو انتخابات ہونے والے ہیں۔ وزیر اعظم پیڈرو سانچیز جائے حادثہ کی جانب روانہ ہوگئے، جبکہ اپوزیشن پیپلز پارٹی نے اپنے انتخابی پروگرام منسوخ کردیے۔ سانچیز نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے یکجہتی کا پیغام دیا۔
اسپین کے ریلوے سیفٹی ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق ٹرینوں کے تصادم اور پٹڑی سے اترنے سمیت حادثات کی تعداد 2016 میں 45 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 57 اور گزشتہ سال 69 ہوگئی۔ یورپی کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق اسپین نے 2018 سے 2022 کے دوران اپنے تقریباً 4 ہزار کلومیٹر طویل تیز رفتار ریلوے نیٹ ورک پر سالانہ اوسطاً ڈیڑھ ارب یورو خرچ کیے، تاہم اس رقم کا تقریباً 16 فیصد حصہ ہی مرمت، تجدید اور بہتری کے لیے مختص کیا گیا۔







