
خلیج اردو
آبنائے ہرمز کے اطراف جہاز رانی میں خلل کے باعث ابوظبی جانے والی خصوصی اسٹیل پلیٹوں کی کھیپ بھارت منتقل کرنا پڑی، جس سے متحدہ عرب امارات کی الغربیٰ پائپ کمپنی کو سامان کی ترسیل میں تقریباً دو ماہ کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کھیپ ابتدا میں خلیفہ پورٹ پہنچنا تھی، تاہم جہاز کو محفوظ بندرگاہ پر منتقل کرنے کی اجازت کے تحت بھارت کے مغربی ساحل پر واقع جکھاؤ بندرگاہ پر اتار دیا گیا۔ کمپنی کے پاس سامان ذخیرہ کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 30 دن کی گنجائش تھی، جس کے باعث اسے اسٹیل پلیٹوں کی منتقلی کے لیے دوسرے جہاز کا انتظام کرنا پڑا۔
الغربیٰ پائپ کمپنی ابوظبی میں بڑے قطر کے اسٹیل پائپ تیار کرتی ہے اور اس کا پیداواری پلانٹ خلیفہ پورٹ سے تقریباً 10 کلومیٹر دور کیزاد میں واقع ہے۔ کمپنی کے چیف کمرشل آفیسر جونیا کاکو کے مطابق زیادہ تر کھیپیں اب بھی خلیفہ پورٹ کے ذریعے پہنچ رہی ہیں، تاہم پہلے سے یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکے گا یا نہیں، کیونکہ اس کا فیصلہ جہاز کا مالک کرتا ہے۔
توانائی کی عالمی سپلائی چین میں خلل کے باعث کمپنی کو صرف ترسیل کے مسائل ہی نہیں بلکہ تیل اور گیس کے متعدد منصوبوں میں تاخیر کا بھی سامنا ہے۔ جونیا کاکو کے مطابق بعض ٹھیکیداروں نے انجینئرنگ، خریداری اور تعمیراتی معاہدے حاصل کرنے کے باوجود پائپوں کی خریداری مؤخر کردی ہے۔ اس کی وجوہات میں منصوبوں کی معاشی افادیت، لاجسٹکس کی مشکلات اور خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاسی صورت حال شامل ہیں۔
کمپنی نے گزشتہ دو برسوں میں ہر سال ڈھائی لاکھ ٹن سے زیادہ پائپ تیار کیے، تاہم اب اس کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے اور دسمبر 2026 کے اختتام تک 60 ہزار ٹن پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ کمپنی 2027 میں دو لاکھ ٹن پائپ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم توقع ہے کہ سال کی پہلی ششماہی میں سرگرمیاں سست رہیں گی اور دوسری ششماہی میں پیداوار میں بہتری آئے گی۔ کمپنی کی سالانہ پیداواری صلاحیت چار لاکھ ٹن ہے اور یہ 18 سے 60 انچ قطر کے بڑے اسٹیل پائپ تیار کرتی ہے۔
متبادل بندرگاہوں اور زمینی راستوں کے ذریعے سامان پہنچانے میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔ فجیرہ کی بندرگاہ ذخیرہ کرنے کی محدود گنجائش اور بڑے حجم کی کھیپوں کے باعث خلیفہ پورٹ کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی، جبکہ عمان اور سعودی عرب کے راستوں سے ترسیل میں کئی ہفتوں کی اضافی تاخیر ہوسکتی ہے۔ کمپنی نے کسٹم کلیئرنس کو آسان بنانے کے انتظامات کیے ہیں، لیکن متبادل راستوں پر منتقلی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائپوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی خصوصی اسٹیل پلیٹیں یورپ، جنوبی کوریا اور جاپان سے درآمد کی جاتی ہیں، جبکہ چین بھی ایک اہم سپلائر بن رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ مخصوص اسٹیل پلیٹیں فی الحال متحدہ عرب امارات میں تیار نہیں ہوتیں اور مقامی پیداوار شروع کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے میں آئندہ دو برسوں کے دوران نئے منصوبے پائپ ساز کمپنیوں کے لیے طلب میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تیل و گیس کے شعبے کے ماہر آدتیہ سارسوت کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 2026 کے دوران 67 ارب ڈالر کے نئے منصوبوں کی منظوری دی گئی، جبکہ مزید 100 ارب ڈالر کے منصوبے پیش رفت کے منتظر ہیں۔ یہ اعدادوشمار ممکنہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کی عکاسی کرتے ہیں، انہیں مکمل منصوبے یا پائپوں کے مصدقہ آرڈرز نہیں سمجھا جاسکتا۔
ماہر کے مطابق متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عراق میں جہاز رانی کے متاثرہ راستوں کے متبادل کے طور پر پائپ لائنوں کی تعمیر کے لیے اعلان کردہ سرمایہ کاری 25 سے 30 ارب ڈالر تک ہے۔ تاہم ان منصوبوں سے حقیقی آرڈرز کا حصول ان پر عمل درآمد اور معمول کے کاروباری حالات کی بحالی سے مشروط ہوگا۔
آدتیہ سارسوت نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث رواں سال طلب میں کمی دیکھی جارہی ہے، تاہم اگلے 12 سے 24 ماہ کے دوران سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق آئندہ 18 سے 24 ماہ میں منصوبوں کی لاگت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور خریداری کے فیصلے متاثر ہوں گے۔ الغربیٰ پائپ کمپنی کے لیے فوری ترجیح موجودہ ترسیلی مشکلات سے نمٹنا اور مستقبل میں طلب کی بحالی کے لیے تیاری کرنا ہے۔







