خلیج اردو
29 جون 2021
دبئی : چونکہ پاکستان اور دبئی کے درمیان فضائی پروازوں پر پابندی ہے ، اسی وجہ سے فیاض منیر نے اس کا حل یوں نکالا کہ انہوں نے پہلے کرغیزستان کا سفر کیا اور اس کے بعد وہاں سے متحدہ عرب امارات کا سفر کیا جو اس کو پابندی کے باوجود متحدہ عرب امارات پہنچا گیا۔
فیاض کا کہنا ہے کہ کرغیزستان جو سردی کیلئے مشہور ہے ، کی خوبصورت دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک یہ ایسا ملک ہے جو وقت گزارنے کیلئے بہترین ہے۔
متحدہ عرب امارات میں جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک جیسے پاکستان ، بھارت ، بنگلادیش ، سری لنکا اور نیپال کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد ہے کیونکہ ان ممالک میں کرونا وائرس کی صورت حال ابتر ہے۔
بھارت اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کیلئے یہ پابندی 24 اپریل اور 13 مئی کو لگائی گئی۔ تاہم ان ممالک کے شہری ہمت نہیں ہار رہے اور دبئی میں واپس جانے کیلئے وہ دیگر دستیاب آپشن استعمال کررہے ہیں۔ یہ دولت مشترکہ کے دیگر ممالک جیسے کرغیزستان کے ذریعے سے وہاں جاتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے حکام نے ان ایشائی ممالک سے دبئی میں سفر کیلئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ اگر براستہ کرغیزستان سفر کرتے ہیںض تو پہلے انہیں 14 دنوں کا لازمی قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے۔
فیاض کا کہنا ہے کہ ان کیلئے پاکستان سے کام کرنا ممکن نہیں تھا تو انہوں نے اپنے ٹریول ایجنٹ سے رابطہ کیا اور انہیں کرغیزستان کے راستے سے آنا ممکن لگا۔
فیاض نے اسلام آباد سے بیشکک کیلئے سفر کی شروعات 11 جون کو کی اور ان کے ساتھ دیگر مسافر بھی تھے جو پاکستان سے دبئی جانا چاہتے تھے۔
انہوں نے بیشکک کیلئے یک طرفہ ٹکٹ 1600 درہم میں خریدا اور وہ دو گھنٹوں کی سفر پر کرغیزستان پہنچے۔فیاض کے مطابق اسلام آباد سے قطر اور ترکش ایئرویز کی فلائٹس چل رہی ہیں۔ انلائن ویزہ صرف 700 درہم میں ملا وہ بھی انلائن اور اس کے بعد بیشکک میں 14 دن گزار کر وہ بالاخر دبئی پہنچا۔ بیشکک سے دبئی کا ٹکٹ 1000 درہم ہے۔
فیاض نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے پاس کرغیزستانی سوم اور امریکی ڈالر رکھے۔ بیشکک ایئرپورٹ سے سٹی سنٹر کیلئے ٹیکسی کا کرایہ 22 درہم ، لوکل سم خریدنے کے 25 درہم ہے جبکہ وہاں ہوٹلوں کی بہتات ہے اور فیاض نے 14 دنوں کیلئے 1000 درہم میں کمرہ بک کیا۔
فیاض کا کہنا ہے کہ بیشکک میں کئی ہوٹل ہیں جس میں طرح طرح کے کھانے دستیاب ہیں اور انہوں نے 14 دنوں میں خوراک پر 400 درہم خرچ کیے۔
فیاض نے نشاندہی کی کہ کرغیزستان میں 14 دنوں کیلئے قرنطینہ رہنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا رہائشی وہاں سے جی ڈی آر ایف اے سے درخواست کر سکتا ہے کہ وہ انہیں داخلے کا پرمٹ دیں جہاں سے جانچ پڑتال کے بعد انٹری پرمٹ جاری کیا جاتا ہے۔ اس کیلئے الحوسن اپلیکیشن پر سبز اسٹیٹس لازمی ہے۔
فیاض کا کہنا ہے کہ انہیں بیشکک میں 65 درہم کا کرونا پی سی آر ٹیسٹ پڑا۔ انہوں نے دیگر مسافروں کی رہنمایئی کیلئے بتایا ہے کہ وہاں ڈیجیٹل نظام نہیں اور سب دستاویزات آپ کو ہارڈ کاپی میں دینا ہوں گے۔
دیگر مسافروں کیلئے فیاض نے کہا ہے کہ وہ اپنے لیے کرغیزستان یا روس کے شہریوں کو بطور ترجمان رکھیں تاکہ انہیں رابطے کے زبان کا مسئلہ نہ ہو اور وہ آسانی سے رہنمائی حاصل کر سکے۔
Source : Khaleej Times







