
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ملازمین کو تنخواہوں کی تیز، محفوظ اور شفاف ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ویج پروٹیکشن سسٹم کو جدید ڈیجیٹل سہولیات سے اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔ وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن کے مطابق نئے نظام کا مقصد آجرین کی رجسٹریشن آسان بنانا، ڈیٹا کی سکیورٹی مضبوط کرنا اور تنخواہوں کی ادائیگی کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
دسمبر 2025 میں اپ گریڈ کیے گئے اس نظام کو اب مزید مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں تبدیل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے آجرین کو رجسٹریشن کے لیے دستاویزات جمع کرانے یا مالیاتی اداروں کے دفاتر کے ذاتی دورے کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نئی سہولت کے تحت وزارت کے نظام سے منسلک مالیاتی اداروں کے ذریعے رجسٹریشن کا عمل ڈیجیٹل طور پر مکمل کیا جا سکے گا۔
نظام کو وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن نے متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک اور الاتحاد پیمنٹس کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ اس میں محفوظ ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیسز کے ذریعے مختلف اداروں کے درمیان ڈیٹا کا فوری تبادلہ ممکن بنایا گیا ہے، جس سے معلومات کی درستگی، ادائیگیوں کی نگرانی اور ڈیٹا کی سکیورٹی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
نئے نظام میں سات مزید مالیاتی اداروں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں فرسٹ ابوظبی بینک، امارات این بی ڈی، دبئی اسلامک بینک، مشرق بینک، عجمان بینک، لاری ایکسچینج اور فرسٹ گلف ایکسچینج سینٹر شامل ہیں۔ ان اداروں کی شمولیت کے بعد ویج پروٹیکشن سسٹم کے شراکت داروں کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی ہے۔
وزارت کے مطابق ویج پروٹیکشن سسٹم نجی شعبے کے 99 فیصد سے زائد ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگیوں کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ اس کے ذریعے ماہانہ اوسطاً 37 ارب درہم کی منتقلی کی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اپ گریڈ شدہ نظام تنخواہوں کی ادائیگی میں شفافیت، قابلِ اعتماد کارروائی اور ملازمین کے مالی تحفظ کو مزید بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
وزارت انسانی وسائل و اماراتائزیشن کی اسسٹنٹ انڈر سیکریٹری برائے لیبر پروٹیکشن دلال الشحی نے کہا کہ ویج پروٹیکشن سسٹم اب محض تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق قانونی تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ متحدہ عرب امارات کی لیبر مارکیٹ کو معاونت فراہم کرنے والا ایک جامع ڈیجیٹل مالیاتی نظام بن چکا ہے۔
وزارت کے مطابق یہ اقدام سرکاری امور میں بیوروکریسی کے خاتمے، مالیاتی سہولیات تک رسائی میں اضافے اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی حکمرانی مضبوط بنانے کے حکومتی اہداف سے مطابقت رکھتا ہے، جبکہ یہ متحدہ عرب امارات کے وژن 2031 کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔







