متحدہ عرب امارات

رمضان سے جڑی 8 دلچسپ اور کم معروف حقیقتیں

خلیج اردو
رمضان المبارک کی آمد قریب آتے ہی متحدہ عرب امارات میں روحانی تیاریوں کا آغاز ہو چکا ہے، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں اوقات کار میں ردوبدل کیا جا رہا ہے، جبکہ اس سال فلکیاتی حسابات کے مطابق رمضان کا آغاز 19 فروری کو متوقع ہے، تاہم چاند نظر آنے کی صورت میں آغاز 18 فروری کو بھی ہو سکتا ہے، حتمی اعلان رویتِ ہلال کمیٹی کرے گی۔

رمضان کی علامت سمجھے جانے والے فانوس روشنی اور امید کی علامت ہیں، جن کی تاریخ قدیم مصر سے جا ملتی ہے، جہاں بچے رمضان میں چراغ لے کر گلیوں میں نکلتے تھے۔

رمضان کا نام عربی لفظ سے ماخوذ ہے جو شدید گرمی اور جھلسا دینے والی تپش کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے روزوں کے ذریعے گناہوں کے جلنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان بطور مہینہ اسلام سے پہلے بھی عرب خطے میں ایک اہم حیثیت رکھتا تھا، اگرچہ روزے کی فرضیت بعد میں نازل ہوئی۔

امریکی تاریخ میں پہلا وائٹ ہاؤس افطار 1805 میں ہوا، جب صدر تھامس جیفرسن نے تیونس کے سفیر کے لیے افطار کے مطابق عشائیے کا وقت مقرر کیا۔

رمضان ہر سال تقریباً 10 سے 12 دن پیچھے سرکتا ہے اور مکمل طور پر تمام موسموں کا چکر لگانے میں 33 سال لیتا ہے۔

سال 2030 میں دنیا دو رمضان دیکھے گی، ایک جنوری میں اور دوسرا دسمبر میں، جبکہ 2033 میں تین عیدیں ہونے کا امکان ہے، جن میں دو عیدالفطر اور ایک عیدالاضحی شامل ہوں گی، اسی سال عیدالفطر کے دن کرسمس کے قریب آنے یا حتیٰ کہ ایک ہی دن ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 سالہ روایت توڑتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں افطار یا عید ڈنر کا اہتمام نہیں کیا، جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

امارات میں اس سال روزہ دورانیہ 12 سے 13.5 گھنٹے تک ہوگا، تاہم شمالی یورپ کے بعض ممالک میں روزے 16 سے 20 گھنٹے تک بھی ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button