
خلیج اردو
میٹا کے زیرِ ملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے ملک میں اس سروس کو "مکمل طور پر بلاک” کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ صارفین کو ریاستی حمایت یافتہ متبادل ایپ کی جانب منتقل کیا جا سکے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور غیر ملکی ٹیک کمپنیوں کے درمیان کشیدگی یوکرین جنگ کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ روسی حکام مقامی طور پر تیار کردہ ’میکس‘ نامی ایپ کو فروغ دے رہے ہیں، جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اسے صارفین کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ریاستی میڈیا ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
واٹس ایپ کے ترجمان نے کہا، "یہ اقدام صارفین کو ایک ریاستی نگرانی والی ایپ کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے، ہم اپنے صارفین کو منسلک رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھیں گے۔”
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ اگر میٹا روسی قوانین کی پاسداری کرے اور حکام سے مکالمہ کرے تو معاہدے کا امکان موجود ہے، بصورت دیگر "کوئی گنجائش نہیں” ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق روسی مواصلاتی نگران ادارے روس کومنادزور کی آن لائن ڈائریکٹری سے واٹس ایپ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس روس نے واٹس ایپ اور ٹیلیگرام پر بعض کالز محدود کی تھیں اور الزام عائد کیا تھا کہ غیر ملکی پلیٹ فارمز فراڈ اور دہشت گردی کے معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معلومات شیئر نہیں کرتے۔ دسمبر میں ایپل کی فیس ٹائم سروس بھی بلاک کر دی گئی تھی۔
ٹیلیگرام کے بانی پاول دوروف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کا پلیٹ فارم اظہارِ رائے کی آزادی اور صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے پرعزم رہے گا۔
ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز پر بڑھتی پابندیاں روس میں ڈیجیٹل خود مختاری اور انٹرنیٹ پر ریاستی کنٹرول کی پالیسی کو مزید نمایاں کر رہی ہیں۔







