
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور حکمران دبئی شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے عوامی تحفظ سے متعلق نیا قانون جاری کر دیا ہے جو یکم جون دو ہزار چھبیس سے نافذ العمل ہوگا۔
یہ قانون افراد اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرے گا، جس کا مقصد حادثات کے نتیجے میں ہونے والی چوٹوں، اموات اور نقصانات کو کم کرنا اور عوامی خدمات و مصنوعات کے لیے اعلیٰ حفاظتی معیار قائم کرنا ہے۔
قانون کے تحت عوامی مقامات اور تقریبات میں حفاظتی اقدامات لازمی قرار دیے گئے ہیں جبکہ معاشرے میں تحفظ سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے عوامی شمولیت بھی یقینی بنائی جائے گی۔
اس قانون پر عملدرآمد اور نگرانی کی ذمہ داری دبئی بلدیہ کے ماحولیاتی، صحت اور تحفظ کے ادارے کو دی گئی ہے جو متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر امارت میں عوامی تحفظ کے امور کو منظم کرے گا۔
قانون کے مطابق تقریبات اور عوامی مقامات پر مناسب روشنی اور ہوا کا انتظام، محفوظ داخلہ و اخراج، لوگوں کی تعداد کی حد مقرر کرنا اور شور کی سطح کو کنٹرول کرنا ضروری ہوگا تاکہ حادثات اور صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔
مزید یہ کہ مقامات پر آگ بجھانے کا سامان، ہنگامی انخلا کے انتظامات، ابتدائی طبی امداد، تربیت یافتہ حفاظتی نگران، الارم سسٹم، حفاظتی نشانات اور جامع حفاظتی منصوبہ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
قانون میں رہائشی عمارتوں کی دیکھ بھال، برقی آلات کے استعمال اور ساحلوں و سوئمنگ پولز کی حفاظت سے متعلق بھی واضح ہدایات شامل کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ بغیر اجازت دھماکہ خیز مواد، آتش بازی، زہریلے یا آتش گیر مواد کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ خطرناک اشیاء کو کوڑا دان یا نکاسی آب کے نظام میں پھینکنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں پر پانچ سو درہم سے ایک ملین درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک سال کے اندر دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بڑھ کر دو ملین درہم تک ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ فریق کسی بھی فیصلے کے خلاف دس ورکنگ دن کے اندر تحریری اپیل دائر کر سکتا ہے جس کا فیصلہ تیس دن کے اندر کیا جائے گا۔






