
خلیج اردو
بھارت میں 2006 کے ممبئی ٹرین دھماکوں کے مقدمے میں نامزد تمام 12 مسلمان افراد کو عدالت نے 19 سال بعد بے گناہ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ ججز نے ریمارکس دیے کہ ہمیں یہ ماننے میں شدید دشواری ہو رہی ہے کہ ان افراد نے جرم کا ارتکاب کیا۔ اس لیے سزا کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ جولائی 2006 میں ممبئی کی مقامی لوکل ٹرینوں میں محض 11 منٹ کے وقفے سے سات بم دھماکے ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں 189 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے اور 800 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
ملزمان کو ان دھماکوں کے بعد گرفتار کر کے طویل عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے دوران ان پر تشدد، زبردستی اعتراف اور غیرمنصفانہ تحقیقات جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
عدالت کا یہ فیصلہ نہ صرف بھارت کے عدالتی نظام پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور انصاف کی تاخیر پر بھی ایک سنگین اشارہ ہے۔






