عالمی خبریں

بھارت میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے

خلیج اردو

بہار: بھارت میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم 22 افراد ہلاک اور متعدد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، حکام نے جمعرات کو بتایا ہے کہ یہ اموات بنیادی طور پر مشرقی ریاست بہار کے دو گاؤں میں ہوئیں جہاں شراب کی فروخت اور استعمال پر پابندی ہے۔

 

اس طرح کی پابندیاں متعدد بھارتی ریاستوں میں نافذ العمل ہیں، جو کہ غیر منظم بیک اسٹریٹ ڈسٹلریز میں بنی سستی الکوحل کے لیے بلیک مارکیٹ چلاتی ہیں جس سے ہر سال سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

 

تازہ ترین واقعہ میں سارن ضلع میں مردوں کی حالت بگڑنے سے پہلے منگل کو الٹیاں آنا شروع ہو گئیں۔ تین افراد اسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے اور دیگر بدھ اور جمعرات کو علاج کے دوران دم توڑ گئے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 31 بتائی گئی ہے۔

 

اسپتال کے سربراہ ساگر دلال سنہا نے کہا کہ اب تک 22 پوسٹ مارٹم امتحانات کئے جا چکے ہیں۔سینئر پولیس افسر سنتوش کمار نے کہا کہ حکام نے علاقے میں شراب کی غیر قانونی دکانوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

 

کمار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم نے شراب کے ایک درجن سے زائد تاجروں کو گرفتار کیا ہے اور کچھ کو حراست میں لیا ہے۔انٹرنیشنل اسپرٹ اینڈ وائن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً پانچ بلین لیٹر شراب پی جاتی ہے جس میں سے تقریباً 40 فیصد غیر قانونی طور پر تیار کی جاتی ہے۔

 

غیر قانونی شراب کو اپنی طاقت بڑھانے کے لیے اکثر میتھانول کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ اگر میتھانول کھایا جائے تو اندھے پن، جگر کے نقصان اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔

جولائی میں مغربی ریاست گجرات میں شراب پینے سے 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔گزشتہ سال بھی اسی طرح کے ایک واقعے میں شمالی ریاست پنجاب میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button