
خلیج اردو
بیجنگ :چین نے ہفتے کے روز تبت کے علاقے میں دریائے برہمپتر پر ایک عظیم الشان ڈیم کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس پر 167.8 ارب امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی۔ یہ ڈیم بھارت کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کی سرحد کے قریب تعمیر کیا جا رہا ہے، جس پر نئی دہلی کو شدید تحفظات ہیں۔ ریاست اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے اس منصوبے کو ایک "ٹکنگ بم” قرار دیا جو بھارت کے لیے کسی بھی وقت تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر اعظم لی کیانگ نے نِنگچی شہر میں ایک تقریب کے دوران اس ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا۔ یہ منصوبہ پانچ سلسلہ وار پن بجلی گھروں پر مشتمل ہوگا اور اس سے ہر سال 300 ارب کلو واٹ گھنٹے سے زائد بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے، جو تیس کروڑ سے زیادہ افراد کی سالانہ ضرورت کے برابر ہے۔ چین اسے دنیا کا سب سے بڑا بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ قرار دے رہا ہے، جو نہ صرف تبت بلکہ ملک کے دیگر علاقوں کو بھی بجلی فراہم کرے گا۔
بھارت کی تشویش کی بنیاد صرف جغرافیائی محل وقوع نہیں بلکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول سے متعلق ہے۔ بھارت کے ماہرین کے مطابق چین ماضی میں سرحدی کشیدگی کے دوران برہمپتر کے پانی کے بہاؤ سے متعلق معلومات روک چکا ہے، اور خدشہ ہے کہ چین مون سون کے دوران اچانک پانی چھوڑ کر بھارت میں تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارت کے ماہرین اس اقدام کو چین کی طرف سے واٹر ڈپلومیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف کاربن اخراج میں کمی کے چینی وعدے کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ تبت کے علاقے میں روزگار اور ترقی کے امکانات کو بڑھانے کا ہدف بھی رکھتا ہے، تاکہ مقامی سطح پر کمیونسٹ پارٹی کی ساکھ کو تقویت دی جا سکے۔
بھارتی ماہرین کے مطابق اس منصوبے کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ بنگلہ دیش پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ برہمپتر دریا دونوں ملکوں کے لیے زرعی اور انسانی ضروریات کے لیے نہایت اہم ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے پروفیسر کیشو مشرا کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کو مل کر چین پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ دریا سے متعلق ڈیٹا کا تبادلہ یقینی بنائے اور اس منصوبے پر بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کام کیا جائے۔
پروفیسر راجیو رنجن کے مطابق چونکہ چین برہمپتر دریا کا بالائی ملک ہے اور وہ کثیر فریقی معاہدوں کا حصہ نہیں بنتا، اس لیے اسے مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے منصوبے تعمیر کرے۔ تاہم، بھارت اور بنگلہ دیش کو ایک سہ فریقی واٹر کوآپریشن کمیشن کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ پانی کے بہاؤ کے بارے میں بروقت معلومات کا تبادلہ ممکن ہو سکے اور کسی بھی ممکنہ آبی تباہی سے بچا جا سکے۔
یہ منصوبہ چین کے تھری گورجز ڈیم سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے، اور اس میں کی جانے والی سرمایہ کاری سابقہ منصوبوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ نہ صرف علاقائی توازن بلکہ جنوبی ایشیا کی آبی سیاست میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔






