
خلیج اردو
ابوظبی: چین میں ایک ڈرائیور لیس کار میں آگ لگنے کے واقعے کے باوجود ابوظبی میں خودکار گاڑیوں سے متعلق منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ بات چینی خودمختار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کمپنی Pony.ai نے اپنے بیان میں واضح کی ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ بیجنگ میں آگ لگنے کے حالیہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اس کی بنیادی وجہ معلوم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ابوظبی انویسٹمنٹ آفس کے ساتھ ان کی شراکت داری "اس واقعے سے متاثر نہیں ہوگی”۔
چینی میڈیا کے مطابق 13 مئی کو بیجنگ کے جنوب مشرقی نواحی علاقے دازِنگ ضلع کے ییزہوانگ ٹاؤن میں Pony.ai کی ایک سیلف ڈرائیونگ ٹیسٹ گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز چینی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں گاڑی بری طرح متاثر دیکھی گئی۔
Pony.ai نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ صبح 9:30 بجے کے قریب پیش آیا۔ کمپنی کے مطابق گاڑی میں اس وقت کوئی مسافر موجود نہیں تھا، نہ ہی کسی قسم کا تصادم ہوا اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔ گاڑی معمول کی جانچ کے عمل سے گزر رہی تھی۔
کمپنی نے مزید بتایا: "گاڑی کے آپریشن کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال سامنے آئی جس پر حفاظتی نظام نے فوری طور پر ہنگامی طور پر گاڑی کو روک دیا۔ ہماری ٹیم دو منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئی۔ گاڑی میں آگ اس وقت لگی جب اس کی ہینڈلنگ جاری تھی، جسے متعلقہ حکام کے تعاون سے قابو میں لایا گیا۔”
Pony.ai جو چین، یورپ، مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں سرگرم ہے، نے خلیج ٹائمز کو ایک بیان میں کہا: "ہم اس واقعے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور بیجنگ کی مقامی اتھارٹیز کے ساتھ مکمل تعاون سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہمارے صارفین اور شراکت داروں کا اعتماد اور تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔”
کمپنی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شفافیت اور مستقل بہتری کے لیے ضروری اقدامات کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
Pony.ai کی بنیاد دسمبر 2016 میں جیمز پینگ اور تیانچینگ لو نے رکھی تھی، جو اس سے پہلے سلیکون ویلی میں بائیڈو کے سافٹ ویئر ڈویلپرز تھے۔
اکتوبر 2023 میں Gitex Global کے دوران Pony.ai نے ابوظبی کے اسمارٹ اور خودمختار گاڑیوں کے منصوبے (SAVI) میں شمولیت اختیار کی تھی، جو کہ مصدر سٹی میں قائم ہے۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد اور صنعت کی پیش رفت
کمپنی نے اعتراف کیا کہ اگرچہ اس واقعے سے نئی حفاظتی اور ضابطہ جاتی جانچ بڑھ سکتی ہے، لیکن سرمایہ کار کمپنی کی طویل مدتی صلاحیت پر پر امید ہیں۔
Pony.ai نے کہا: "ڈرائیور لیس سروسز دنیا کے 50 سے زائد شہروں میں منظور ہو چکی ہیں اور ان کی آپریٹنگ لاگت روایتی ٹیکسیوں کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہو چکی ہے۔”
کمپنی نے مزید دعویٰ کیا کہ خودکار گاڑیوں کی بدولت حادثات کی شرح میں 90 فیصد کمی آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روبوٹیکسی سروسز 2030 تک شہری آمدورفت کا انداز بدل سکتی ہیں۔






