
خلیج اردو
غزہ: اسرائیلی محاصرے اور مسلسل بمباری کے باعث غزہ میں انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 10 فلسطینی بھوک اور پیاس کے باعث شہید ہو گئے، جس کے بعد بھوک سے شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 111 ہو گئی ہے، جن میں 80 بچے بھی شامل ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی محاصرے کے سبب خوراک اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ مسلسل بمباری نے علاقے میں ماحولیاتی بحران بھی جنم دے دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے سوک فراس بازار میں دو لاکھ ٹن کچرا جمع ہو چکا ہے، جس نے شہر کے ماحول کو زہریلا بنا دیا ہے۔
غزہ شہر کا 45 فیصد حصہ خالی ہو چکا ہے، سڑکیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور کچرا گلیوں اور خیمہ بستیوں تک پھیل چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 350 سے زائد نئے کچرے کے ڈھیر قائم ہو چکے ہیں، جن میں سے 60 فیصد خیموں اور 15 فیصد پانی کے ذخائر کے قریب ہیں، جس سے صاف پانی کا حصول بھی مزید خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ سے پیدا ہونے والی زہریلی باقیات نسلوں تک انسانی صحت اور ماحول پر مہلک اثرات ڈالتی رہیں گی، جس کے سدباب کیلئے فوری عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔






