عالمی خبریں

بھارت کے وزیر اعظم کا فوج کو کشمیر حملے کا جواب دینے کا ‘مکمل اختیار’ دینے کا اعلان

خلیج اردو
نئی دہلی – بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں شہریوں پر حالیہ ہلاکت خیز حملے کے بعد فوج کو "مکمل آپریشنل آزادی” دے دی ہے تاکہ وہ اس حملے کا بھرپور جواب دے سکیں۔ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ہدایات ایک بند کمرہ اجلاس میں دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے فوجی اور سیکیورٹی حکام سے ملاقات میں کہا کہ "ہماری مسلح افواج کو مکمل اختیار ہے کہ وہ جواب دینے کا طریقہ، ہدف اور وقت خود طے کریں۔”

مودی نے اس حملے کو بھارت کی قومی خودمختاری پر حملہ قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف سخت موقف دہراتے ہوئے کہا کہ "یہ ہمارا قومی عزم ہے کہ ہم دہشت گردی کو کچل کر رکھ دیں گے۔”

وزیر اعظم کے ان بیانات کی تصدیق بھارتی اخبارات نے بھی کی ہے جنہوں نے ملاقات کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ ملاقات میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی موجود تھے۔

22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آنے والے اس حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے جبکہ اسلام آباد نے یہ الزام مسترد کر دیا ہے۔

واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے، سفارتی سطح پر تنقید، شہریوں کی ملک بدری اور سرحد کی بندش جیسے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔

مودی نے جمعرات کو ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ "ہم ہر دہشت گرد اور اس کے مددگار کو تلاش کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں گے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔”

بھارتی پولیس نے تین مطلوب افراد — دو پاکستانی اور ایک بھارتی — کی تصاویر جاری کی ہیں جنہیں پاکستان میں قائم تنظیم لشکرِ طیبہ کا رکن قرار دیا گیا ہے، جو کہ اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد دہشت گرد تنظیم ہے۔

کشمیر، جو 1947 سے بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع علاقہ ہے، میں 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے جس میں آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button