
خلیج اردو
تہران/یروشلم: اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر 100 سے زائد ڈرونز داغ دیے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی جوابی حملہ ایک منظم اور بڑے پیمانے پر عسکری ردعمل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے چھوڑے گئے ڈرونز اسرائیل کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، اور اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) انہیں فضاء میں ہی نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ’’آنے والے چند گھنٹے ہمارے لیے انتہائی سخت ہوں گے۔‘‘
ایرانی ڈرونز کی پرواز کی ویڈیو بھی اسرائیلی میڈیا نے جاری کی ہے، جس میں انہیں عراق کی فضائی حدود سے اسرائیل کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان ڈرونز کو اسرائیلی حدود تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں، لیکن ان کا ہدف ممکنہ طور پر فوجی تنصیبات یا حساس علاقوں پر حملہ کرنا ہے۔
اسرائیل کی ایئر ڈیفنس فورس الرٹ پر ہے جبکہ متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ خطے میں فضائی نگرانی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ایران کے اس اقدام کو ایک براہِ راست جوابی حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کسی بھی وقت مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔






