
خلیج اردو
تہران: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر فضائی حملے کر کے باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، اعلیٰ عسکری کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد، اور ممتاز جوہری سائنسدان فرید عباسی اور محمد مہدی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تہران کے شمال مشرق میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جنہیں فضائی حملے قرار دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے رہائشی علاقوں پر بھی بمباری کی جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت کئی افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ حملوں کے باعث تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملہ کر کے جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ اسرائیلی فوجی عہدیدار کے مطابق فضائیہ نے ایران میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں جوہری افزودگی کا مرکز نطنز اور اعلیٰ فوجی قیادت کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ’’ہم اسرائیل کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہماری لڑائی ایرانی عوام سے نہیں بلکہ ایرانی آمریت سے ہے۔‘‘
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندر چھ بڑے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فوجی تنصیبات اور قیادت کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا، جو کئی اہم اہداف کو تباہ کر چکے ہیں۔






