
خلیج اردو
غزہ: رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے علاقے شجاعیہ میں ایک فلسطینی گروپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ صیہونی فوج کی جانب سے نور شمس کے رہائشی کیمپ کو بھی مسمار کرنے کا عمل جاری ہے، جس کے باعث متعدد فلسطینی علاقے سے ہجرت پر مجبور ہوگئے ہیں۔
اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں سکیورٹی کے نام پر مزید تین ہزار اضافی پولیس اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ کا محاصرہ چھٹے روز بھی جاری ہے، جہاں اسرائیلی پابندیوں کے باعث سیکڑوں فلسطینی شہری بنیادی خوراک اور امداد سے محروم رمضان المبارک گزارنے پر مجبور ہیں۔ تاہم تمام تر رکاوٹوں کے باوجود مسجد اقصیٰ میں بڑی تعداد میں فلسطینی مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی، جس نے صیہونی پابندیوں کو مسترد کرنے کے فلسطینی عوام کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا۔
ادھر چین نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے مصر اور عرب ممالک کے امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ فلسطینی عوام کی سرزمین ہے اور یہ فلسطین کا ناقابل تقسیم حصہ ہے، جس پر کسی بھی بیرونی قبضے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔






